BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 23:36 GMT 04:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیٹر زہری کے استعفے کا مطالبہ

خواتین کا مظاہرہ
’اتنی خواتین کی پارلیمان میں موجودگی کے باوجود عورتوں کے خلاف اس طرح کے جرائم ہونا بھی ناقابل فہم ہے‘
بلوچستان میں پانچ عورتوں کو’گولیاں مارنے کے بعد زندہ قبر میں ڈال دینے کے واقعے‘ کے خلاف پیر کو لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں صحافی خواتین کی ایک تنظیم نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ان پانچ بلوچ خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کی شدید مذمت کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو کڑی سزا دی جائے تاکہ کوئی دوبارہ کسی عورت کے ساتھ ایسا ظلم کرنے کی جرات نہ کرے۔

صحافی خواتین سینیٹر اسرار اللہ زہری کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فرسودہ روایات کی آڑ میں پاکستانی عورتوں کے ساتھ اس طرح کے بہیمانہ سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق اسرار اللہ زہری کے اس طرح کے بیان سے پاکستان کی ساکھ کو مزید دھچکا پہنچا ہے جو پہلے ہی ان ممالک میں سر فہرست سمجھا جاتا ہے جہاں انسانی حقوق اور خصوصاً خواتین کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔

’اسلام کا پیغام‘
 اس واقعے کے ذمہ دار افراد اور اسرار اللہ زہری تک ابھی مذہب اسلام کا پیغام نہیں پہنچا اور ابھی یہ اسی دور میں رہ رہے ہیں جب عورتوں اور بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیا جاتا تھا
شہر بانو

انہوں نے کہا کہ کسی سینیٹر یا عوامی نمائندے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح کی بات کرے۔ اس احتجاج میں سماجی کارکن ایڈوکیٹ عاصمہ جہانگیر نے بھی شرکت کی۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اس گھناؤنے جرم پر بلوچستان ہائی کورٹ میں مقدمے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے اور پورے پاکستان کی صحافی خواتین اس کارروائی پر نظر رکھیں گی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

صحافی خواتین کی تنطیم ساؤتھ ایشین وومین ان میڈیا کی رکن شہر بانو کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد اور اسرار اللہ زہری تک ابھی مذہب اسلام کا پیغام نہیں پہنچا اور ابھی یہ اسی دور میں رہ رہے ہیں جب عورتوں اور بیٹیوں کو زندہ گاڑھ دیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا وہاں عورتوں کے ساتھ اس طرح کے سفاک رویے اس کے بنیادی نظریے سے انحراف کے مترادف ہیں۔

اسمبلیوں کی خاموشی
 اس سفاک واقعے کی مذمت میں سیاسی جماعتوں کا کردار اتنا واضح نظر نہیں آ رہا اور خاص طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھی ہوئی بے شمار خواتین نے بھی اس کے خلاف نہ تو آواز بلند کی اور نہ ہی کوئی احتجاج کیا

شہر بانو کا کہنا تھا کہ اس سفاک واقعے کی مذمت میں سیاسی جماعتوں کا کردار اتنا واضح نظر نہیں آ رہا اور خاص طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھی ہوئی بے شمار خواتین نے بھی اس کے خلاف نہ تو آواز بلند کی اور نہ ہی کوئی احتجاج کیا جبکہ اتنی خواتین کی پارلیمان میں موجودگی کے باوجود عورتوں کے خلاف اس طرح کے جرائم ہونا بھی ناقابل فہم ہے جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی موجودگی سے پاکستانی عورت کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد