زندہ دفنانے پر کمیشن، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں قبائلی روایات کے خلاف پسند کی شادی کرنے کی کوشش کرنے والی خواتین کو زندہ دفن کردینے کے مبینہ واقعہ کے بارے میں درست معلومات اکٹھی کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے ایک اعلٰی سطحی تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔ دوسری طرف کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیر آباد شبیر احمد شیخ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق غیرت کے نام پر پانچ نہیں بلکہ تین خواتین کو قتل کیا گیا ہے اور اس بارے میں پولیس نے ان خواتین کے تین قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ نیشنل پولیس بیورو کے سربراہ طارق کھوسہ کی سربراہی میں بننے والا یہ کمیشن ان سنگین الزامات کی تحقیقات کرے گا جن کے مطابق بلوچستان کے عمرانی قبیلے کی پانچ خواتین کو گزشتہ ماہ زخمی حالت میں زندہ دفن کردیا گیا تھا۔ ان میں سے تین نو عمر لڑکیاں اپنی پسند کے مردوں سے عدالت میں شادی کرنے والی تھیں جبکہ باقی دو خواتین انکی مددگار تھیں۔ نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر آصف پراچہ نے ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ پر مشتمل کمیشن کی تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیشن اس متنازعے معاملے کے بارے میں غیر جانبدارانہ تقحقیات کرے گا۔ جبکہ اس واقعہ کی تفتیش کے لئے صوبائی سطح پر بننے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں بھی اپنا کام کرتی رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ طارق کھوسہ بہت جلد اپنی تحقیق کے سلسلے میں بلوچستان کا دورہ کریں گے۔ نیشنل پولیس بیورو کے مطابق کمشین کے قیام کا مقصد تحقیقات کو صوبائی حکومت کے اثر و رسوخ سے بالا رکھنا ہے تاکہ سیاسی مداخلت آزادانہ تحقیق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ قتل کی اس سنگین واردات کی اطلاع گزشتہ ماہ انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم ایشیئن ہیومن رائٹس کمیشن نے دی تھی جس میں اس کی ذمہ داری بلوچستان کابینہ میں شامل پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کے بھائی پر عائد کی گئی تھی۔ ایشیئن ہیومن رائٹس نے اعلٰی حکام کے نام اپیل میں کہا تھا کہ صوبائی وزیر کے اثرو رسوخ کے باعث پولیس اس معاملے کی تحقیق نہیں کر رہی۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر صادق عمرانی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے تین خواتین کے قتل کی تصدیق کی تھی تاہم اپنے بھائی کے ملوث ہونے یا ان خواتین کو زندہ دفن کرنے سے انکار کیا تھا۔ مقامی پولیس افسران نے بھی ان خواتین کے زندہ دفن کئے جانے کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی تھی۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیر آباد شبیر احمد شیخ نے بتایا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق غیرت کے نام پر پانچ نہیں بلکہ تین خواتین کو قتل کیا گیا ہے اور اس بارے میں پولیس نے ان خواتین کے تین قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں ضلعی پولیس افسران تفتیش کر رہے ہیں اور اب تک کوئی چار اہم مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں خواتین کی قبریں ہو سکتی ہیں۔ نصیر آباد سے غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے عہدیدار بخش علی نے بتایا ہے ایسی اطلاعات نھیں ہیں کہ ان تین خواتین کو زندہ جلا کر دفن کیا گیا ہے بلکہ ان کی اطلاعات کے مطابق ان خواتین کو سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے اور پھر دفنایا گیا ہے۔ ڈی آئی جی نصیر آباد شبیر احمد شیخ کے مطابق یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں مدعی نہیں ہے ریاست نے اپنے طور پر مقدمہ درج کیا ہے اور پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان علاقوں میں قبائلی رواج اور سرداری نظام کی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں مدعی کم ہی سامنے آتے ہیں اور اس سال اب تک نصیر آباد میں آٹھ ماہ میں سیاہ کاری کے چار واقعات رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں چھ خواتین سمیت نو افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان ’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘13 August, 2008 | پاکستان بگٹی کی برسی پر ہڑتال اور پہیہ جام26 August, 2008 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان پالیسی پر تنقید25 August, 2008 | پاکستان ’لاسی پہاڑوں میں چلے گئے‘21 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||