BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 August, 2008, 16:07 GMT 21:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیٹ: بلوچستان پالیسی پر تنقید

بلوچستان پولیس (فائل فوٹو)
اراکین کی شکایت تھی کہ صدر مشرف کے استعفے کے بعد بھی پالیسی تبدیل نہیں کی گئی ہے۔
سینیٹ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکین نے بلوچستان میں جاری آپریشن پر حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں ریاست عوام کے خلاف برسرپیکار ہے اور اگر اس آگ اور گولی کے کھیل کو نہ روکا کیا تو وفاق کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسراراللہ زہری نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد بھی پیپلز پارٹی نے اُن کی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری آپریشن کو فوری بند کیا جائے۔

اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل احمد نے کہا کہ بلوچستان کے صورتحال کے حل کے سلسلے میں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو دس روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ وہاں پر آپریشن کس کی ایما پر کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہاں کے لوگوں کو ابھی تک یہ علم نہیں ہے کہ اُن کے خلاف کون کارروائی کر رہا ہے۔

سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ بڑی مشکل سے بلوچستان کے لیے نوکریوں کا کوٹہ بڑھایا گیا لیکن اب نہ صرف کوٹہ ختم کیا جا رہا ہے بلکہ ان علاقوں کے افسران کو او ایس ڈی بنایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر سعد نے باجوڑ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا چھ اگست تک اُس علاقے میں امن تھا لیکن اس کے بعد حکومت کی طرف سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پیمفلٹ تقسیم کیے گئے جن میں کہا گیا کہ اگر کوئی گاڑی سڑک پر چل رہی ہے اور اگر ہیلی کاپٹر وہاں فضا میں اڑتا ہوا نظر آتا ہے تو گاڑی میں سوار تمام افراد باہر نکل آئیں اور ہاتھ اُوپر کرکے کھڑے ہوجائیں اور اگر کسی نے ہاتھ نہ اُٹھائے تو اُس کو گولی مار دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیمفلٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے پاس اسلحہ موجود ہوا تو اُسے وہیں پر گولی مار دی جائے گی۔

سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے اور انہوں نے قیام پاکستان میں بلوچ عوام نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے جانے کے بعد بلوچستان کے بارے میں پالیسیاں تبدیل کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک اس ماہ کی اٹھائس تاریخ کو کوئٹہ جائیں گے جہاں پر وہ امن وامان کی صورتحال کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کو بریفنگ دیں گے ۔

اسی بارے میں
شپ بریکنگ، چیئرمین ہلاک
21 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد