BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2008, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے

نصیر آباد پولیس سٹیشن
پولیس نے محمد عارف نامی ٹریکٹر ڈرائیور کو گرفتار کیا ہے
بلوچستان کی سماجی تنظیموں نے نصیر آباد میں پانچ خواتین کو مبینہ طور پر زندہ درگور کرنے والے اصل ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر پولیس نے لاشوں کو گڑھے میں ڈالنے کے الزام میں ایک ٹریکٹر ڈرائیور کو گرفتار کیا ہے۔

کوئٹہ میں مختلف سماجی تنظیموں پر مشتمل اتحاد بلوچستان سول سوسائٹی فورم کے عہدیداروں نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ نصیر آباد میں مبینہ طور پر پانچ خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعہ میں بااثر افراد ملوث ہیں اور پولیس انہیں گرفتار نہیں کر رہی۔


ایک غیر سرکاری تنظیم سحر کے سربراہ عبدالودود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اصل ملزمان کی نشاندہی نہیں کی جا رہی۔

اس موقع پر موجود ایک اور غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی پشت پناہی ان متعلقہ علاقوں کے با اثر افراد کرتے ہیں اور ریاست بھی ایک طرح سے اس کی روک تھام میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔

اس کے علاوہ نصیر آباد میں بابا گوٹھ تھانے کے ایس ایچ او نے بتایا ہے کہ پولیس نے محمد عارف نامی ٹریکٹر ڈرائیور کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے لاشوں کو گڑھے میں ڈال کر ان پر مٹی ڈالی تھی۔

اس مقدمے میں چار افراد پہلے ہی گرفتار ہیں جن میں پولیس کے مطابق دو ملزمان نے اقبال جرم کیا ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے گزشتہ روز متعلقہ علاقے کے پولیس افسر اور ایس ایچ او کو غلط بیانی پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

با اثر افراد کیا کرتے ہیں
 قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی مدد سے بااثر افراد پولیس کے سامنے اپنے کارکنوں کو پیش کر دیتے ہیں اور اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں
سماجی تنظیمیں

سماجی تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی مدد سے بااثر افراد پولیس کے سامنے اپنے کارکنوں کو پیش کر دیتے ہیں اور اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔

یاد رہے کہ نصیر آباد میں مبینہ طور پر پانچ خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعہ پر سینیٹ میں آواز اٹھائی گئی جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو دو خواتین کی لاشیں ملیں۔ پولیس اور ضلع ناظم سردار فتح عمرانی کا کہنا ہے کہ حواتین صرف دو ہی تھیں۔ اس بارے میں پارلیمان اور سپریم کورٹ کی سطح پر بھی تحقیقات کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
’تحقیقات نہیں صرف نگرانی‘
07 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد