تاخیری حربوں سے کام نہیں لیا: ربانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں زندہ درگور کی جانے والی لڑکیوں کے واقعے میں تاخیری حربوں سے کام نہیں لیا گیا۔ بی بی سی اردو لندن سے بات کرتے ہوئے سینیٹ میں پی پی پی کے قائدِ ایوان نے کہا کہ وہ ایوان میں بھی اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ اس واقعے سے پی پی پی کے کسی عہدیدار کا کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ایک صوبائی وزیر کا نام ضرور لیا جا رہا تھا لیکن وہ بھی اس کی واضح تردید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جیسے ہی اس واقعے کی تفصیلات کا علم ہوا ہم نے اس کی شدید مذمت کی اور یہ بات سب پر واضح ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی شہید چئرپرسن خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ آگے آگے رہی ہیں اور آج بھی پارٹی کا یہی موقف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اس واقعے کے بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس کی رپورٹ کو مسترد کر چکی ہے۔ واقعے کی از سرِنو انکوائری کی جا رہی ہے اور دو لاشوں کو نکالا بھی جا چکا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے پیپلز پارٹی کے اس تشخص کو تو کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ وہ خواتین کے حقوق کے علم بردار ہے لیکن بیرون ملک پاکستان کی ساکھ کو چھوٹا سا دھچکا ضرور لگ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان:دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد01 September, 2008 | پاکستان خواتین کے لیے نئے قانون کا وعدہ02 September, 2008 | پاکستان سینیٹر زہری کے استعفے کا مطالبہ01 September, 2008 | پاکستان زندہ دفنانے پر کمیشن، گرفتاریاں 01 September, 2008 | پاکستان خواتین زندہ دفن: متفقہ قرارداد01 September, 2008 | پاکستان ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||