BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین زندہ دفن: متفقہ قرارداد

سینیٹر اسرار اللہ زہری
بلوچوں میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے اور جہالت کی وجہ سے یہ رجحان پایا جاتا ہے: نادر مگسی
سندھ اسمبلی نے بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں پانچ خواتین کے قتل کی مذمت کی ہے اور مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیئے اقدامات کیئے جائیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شاذیہ عطا مری نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہ صوبائی اسمبلی اس غیر قانونی، غیر اسلامی اور غیراخلاقی واقعہ کی مذمت کرتی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملوث ملزمان کو بے نقاب کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔ صوبائی اسمبلی کے قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

شاذیہ مری، حمیرا علوانی، فرحین مغل، نرگس این ڈی خان اور دیگر اراکین اسمبلی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو جان سے مارنے کو روایت قرار نہیں دیا جاسکتا اور اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔

صوبائی وزیر نادر مگسی کا کہنا تھا کہ بلوچوں میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے اور جہالت کی وجہ سے یہ رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کے خاتمے کے لیئے شعور اور تعلیم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے معاملات فیصلے کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے ایک سال کے اندر کوئی ایک سو خواتین کی زندگیاں بچائی ہیں۔ نادر مگسی کے مطابق جب فیصلوں میں لڑکیوں کو ان کے والدین کے حوالے کیا جاتا ہے تو ان لڑکیوں کی مرضی ضرور معلوم کرنی چاہیئے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین اقبال حیدر نے سینٹر اسرار زہری اور قائم مقام چئرمین جان جمالی کے بیانات کی مذمت کی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ پر آنکھ بند نہ رکھی جائیں ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو کیف کردار تک پہنچایا جائے۔

وکلاء برائے انسانی حقوق تنظیم کے رہنما ضیا اعوان نے واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ آٹھ سال میں خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جو اس بات کی گواہی ہیں کہ خواتین کے حوالے سے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق آٹھ سال کے دوران اکسٹھ ہزار خواتین تشدد کا شکار ہوئیں، ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد خواتین کو بے رحمانہ قتل کیا گیا، تین سو گیارہ خواتین کو زنا کے بعد قتل کیا گیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ چار ہزار خواتین سے زیادتی کی گئی اور سولہ سو خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ چھ ہزار سے زائد خواتین کو کاری اور چار سو کے قریب خواتین اور بچیوں کو ونی قرار دیا گیا۔

اسی بارے میں
مہمند ایجنسی: عورت کا سر قلم
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد