BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نصیرآباد، ’دو نے اقبال جرم کر لیا‘

مظاہرہ
اگست میں بلوچستان ہائی کورٹ میں اس وقت ضلعی پولیس افسران نے کہا تھا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا
نصیر آباد میں سیاہ کاری کا الزام میں قتل کی گئی خواتین کے مقدمے کے حوالے سے سوموار کے روز بلوچستان ہائی کو رٹ نے نصیر آباد کے پولیس افسر اور ایس ایچ او کو غلط بیانی پراظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

دوسری طرف پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں سے دو نے اقبال جرم کر لیا ہے۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس امان اللہ یاسین زئی نے نصیر آباد کے گاؤں باباگوٹھ میں مبینہ طور پر پانچ خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعہ کا از خود نوٹس لیا تھا جس پر آج نصیر آباد کے پولیس افسر غلام حیدر نے عدالت کو بتایا کہ جن چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے دو نے اقبال جرم کر لیا ہے۔

اس مقدمے میں انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے طاہر حسین ایڈووکیٹ پیش ہوئے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ آج جسٹس امان اللہ یاسین زئی اور جسٹس اختر زمان ملغانی کے سامنے تفتیشی افسران پیش ہوئے اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں سے دو نے اقبال جرم کیا ہے جبکہ مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اگست میں جب بلوچستان ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا تو اس وقت ضلعی پولیس افسران نے کہا تھا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ آج عدالت نے پولیس حکام سے غلط بیانی پر اظہار وجوہ کا نوٹس دیا ہے۔

طاہر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کی صورتحال یہ ہے کہ پولیس افسران سے جب عدالت نے پوچھا کہ جن دو خواتین کی لاشیں ملی ہیں آیا وہ شادی شدہ تھیں یا غیر شادی شدہ تھیں لیکن پولیس افسران نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

اظہار وجوہ کے نوٹس کے بارے میں طاہر حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف مقدمہ تک درج ہو سکتا ہے۔

یاد رہے اس سے پہلے انسپکٹر جنرل پولیس آصف نواز بھی کہہ چکے ہیں کہ متعلقہ ضلعی پولیس افسر کے خلاف انکوائری کا حکم دیا جا چکا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ پولیس افسر سے جب بھی رابطے کی کوشش کی ہے انھوں نے بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں
کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ
03 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد