BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 September, 2008, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقتول خواتین کی تفتیش اور احتجاج

ای جی اوز
اسلام آْاد میں این جی اوز ارکان کا احتجاج
خواتین کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی پاکستان کی مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی پانچ خواتین کے لیے بیس ستمبر کو جوائنٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ کے باہر اور تمام صوبوں میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے اور سینیٹر اسرار زہری اور ان تمام لوگوں کو نااہل قرار دینے کا مطاکبہ کیا ہے جو جو غیرت کے نام پر ہونے والی قتل کی وارداتوں کا دفاع کرتے ہیں۔

اس بات کا اعلان پاکستان کی مختلف غیر سرکاری تنظیموں جن میں عورت فاونڈیشن، انسانی حقوق اتحاد اور کئی دوسری تنظیموں کی ایکشن کمیٹی نے جمعرات کو اسلام آباد میں طویل میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پیش آنے والا یہ پہلا واقع نہیں ہے ایسی کئی واقعات پاکستان کے مختلف علاقوں میں رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن آج تک ان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر دفعہ اس قسم کے واقعات کو غیرت اور رسم و رواج کا نام دے دیا جاتا ہے جو کہ پاور پولیٹکس کا حصہ ہے اور یہ انہی لوگوں کی سیاست ہوتی ہے جو اپنے اقتدار اور منصب کو ہمیشہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور بعد میں اسٹیبلشمینٹ سے مدد لیتے ہیں۔

اسلام آباد میں احتجاج کے دوران خواتین این جی اوز کا ایک گروپ

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر بالکل واضح ہیں کہ چاہے ان واقعات کو رسم و رواج کا نام دیا جائے یا پھر پرانے خیالات کا نام دیا جائے ذمہ داری تو ہرحال میں حکومت کی ہے کیونکہ پاکستان کے ہر شہری خواہ وہ مرد ہو یا عورت کو آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے اور ان کی زندگی کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس واقع کے بعد تو سب کچھ صاف اور واضح ہے۔

دریں اثنا کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کی رپورٹ کے مطابق نصیرآباد میں پانچ خواتین کے مبینہ قتل کے سلسلے میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان آصف نواز نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں بارہ سے پندرہ افراد شامل تفتیش ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس واقعے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔

کوئی اڑھائی ماہ گزرنے کے باوجود یہ معاملہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔ یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ آیا خواتین دو تھیں یا پانچ جنہیں مبینہ طور پر سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے اور یا زندہ دفن کر دیا گیا ہے۔

آئی جی بلوچستان آصف نواز نے آج کچھ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار افراد تو زیر حراست ہیں لیکن اس وقت بارہ سے پندرہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ متعلقہ پولیس افسر کے خلاف بھی انکوائری کی جا رہی ہے۔ آئی جی نے کہا ہے کہ ان خواتین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والے شخص کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

کوئٹہ میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے جمعرات کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ کوئی بلوچ روایات نہیں ہیں۔

بلوچستان میں کارو کاری کا نشانہ بننے والی خواتین کے سلسلے میں احتجاج

پولیس نے جن چار افراد کو گرفتار کیا ہے وہ خواتین کے قریبی عزیز ہیں لیکن پولیس کے مطابق گولی چلانے والے اور ٹریکٹر کے ذریعے لاشوں پر مٹی ڈالنے والے افراد تا حال گرفتار نہیں ہو ئے ہیں۔ نصیر آباد کے ناظم اور عمرانی قبیلے سربراہ سردار فتح علی عمرانی جو اب تک اپنے علاقے میں موجود نہیں تھے اور نہ ہی ان سے رابطہ ہو رہا تھا اب انہوں نے کہا ہے کہ خواتین پانچ نہیں تھی بلکہ دو تھیں جنہیں سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا اور باقاعدہ دفن کیا گیا ہے۔
خاتون کا خاکہ(فائل فوٹو)’غیرت کے نام پر قتل‘
’جعفر آباد میں 3 لڑکیاں ہلاک کردی گئیں‘
غیرت کےنام پرقتل
بلوچستان:چھ ماہ، 57 خواتین اور 10مرد قتل
سینیٹر اسرار اللہ زہریسینیٹر اسرار زہری
’عورتوں کو زندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد