خواتین کا قتل، کوئٹہ میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں خواتین کے قتل کے واقعہ کے خلاف جمعہ کو کوئٹہ میں سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جبکہ نصیر آباد میں جن دو خواتین کی لاشیں ملی تھیں جمعہ کو انہیں ورثا کی غیر موجودگی میں پولیس اور میونسپل کمیٹی کے حکام نے امانتاً دفن کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں ریلی کے دوران مظاہرین نے بینرز اور قطبے اٹھا رکھے تھے جن میں لکھا تھا کہ قاتلوں کو سخت سزا دی جائے اور یہ کہ یہ غیر کے نام پر قتل نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔ اس ریلی میں غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد شامل تھے۔ ریلی بوائز سکاوٹس کے ہال سے روانہ ہوئی اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے مظاہرے کے بعد منتشر ہوگئی۔ اس ریلی میں شامل خواتین نے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مردوں نےان خواتین کو زندہ دفن کیا ہے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں پسماندگی کہیں زیادہ ہے، بےروزگاری ہے اور تعلیم نہیں ہے جس وجہ سے جاگیرداروں اور سرداروں کی اجارہ داری ہے۔
اس سے پہلے بوائز سکاؤٹس ہال میں سیاہ کاری اور کاروکاری کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں مقررین نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں تعلیم عام کی جائے اور لوگوں کے روز گار کے مسائل کو حل کیا جائے۔ اس سیمینار سے پروفیسر فرخندہ اورنگزیب نے روائتی معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کے موضع پر لیکچر دیا اور کہا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں عورتوں کو اس طرح بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے وہاں دیگر انسانی اقدار کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر ختم کرتے ہوئے کہا کہ ’بھائی عشق کرے تو واہ واہ بہن کرے تو گالی ہے۔‘ اس سیمینار اور مظاہرے میں کم لوگ ہی اس واقعے کے خلاف کھل کر بات کر رہے تھے اکثر خواتین کی باتوں سے خوف جھلک رہا تھا۔ نصیر آباد کے علاقے بابا گوٹھ میں عمرانی قبیلے کے لوگ آباد ہیں اور اس وقت بلوچستان اسمبلی میں عمرانی قبیلے کے دو رکن منتخب ہو کر آئے ہیں جن میں ایک پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صادق عمرانی اور دوسرے بابو امین عمرانی ہیں۔ اس واقعہ کے حوالے سے صادق عمرانی اور پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن انھوں نے کہا ہے کہ ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے جولائی میں پانچ خواتین کو مبینہ طور پر سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا تھا جن میں سے دو کی لاشیں ایک گڑھے سے مل گئی ہیں جبکہ باقی تین کی لاشوں کا علم نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں کاروکاری کا الزام: چار خواتین قتل29 November, 2006 | پاکستان کاروکاری: سندھ میں چار خواتین قتل29 November, 2006 | پاکستان خواتین زندہ دفن: متفقہ قرارداد01 September, 2008 | پاکستان ’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘13 August, 2008 | پاکستان بگٹی کی برسی پر ہڑتال اور پہیہ جام26 August, 2008 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان پالیسی پر تنقید25 August, 2008 | پاکستان ’لاسی پہاڑوں میں چلے گئے‘21 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||