BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 September, 2008, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

فائل فوٹو
قبائیلی علاقوں میں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک اس سے پہلے بھی ہوا ہے
بلوچستان کے شہر نصیرآباد کے گاؤں میں قتل کی گئی دو خواتین کی لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے مطابق ان خواتین کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے اور ڈاکٹر کے مطابق ان کے جسم پر گولیوں کے کوئی نشان نہیں تھے۔

یاد رہے پولیس حکام یہ کہتے آئے ہیں کہ لاشوں پر گولیوں کے نشان تھے۔

پولیس سرجن لیڈی ڈاکٹر شمیم گل مشوانی نے بتایا ہے کہ دونوں لڑکیوں کی عمریں بیس اور پچیس سال کے درمیان تھیں اور ان کے سر پر لاٹھیاں مار کر تشدد کیا گیا تھا۔ دونوں کی کھوپڑیاں اور پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ ان کا خون بالکل تازہ ہے ۔

انھوں نے کہا کہ دونوں لاشوں پر گولیوں کے کوئی نشان نہیں ہیں اور ناں ہی ایسے شواہد ملے ہیں کہ دونوں کو زندہ دفن کیا گیا ہے کیونکہ جس گڑھے میں انھیں ڈالا گیا تھا وہ زیادہ گہرا نہیں تھا یہ ہو سکتا ہے کہ انھیں بے ہوشی کے حالت میں دفن کر دیا گیا ہو۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے جسم پر جانوروں کے نوچنے کے نشان پائے گئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پانچ خواتین کو مبینہ طور پر سیاہ کاری کے الزام میں زندہ دفن کیا گیا تھا لیکن پھر ایسی اطلاعات آئیں کہ یہ چار خواتین تھیں۔

اوستہ محمد سے انسانی حقوق کی تنظیم کے ایک رہنما عبداللہ مگسی نے بتایا ہے کہ یہ پانچ خواتین ہی تھیں جن میں سے چار کو مارا گیا ہے دو کی لاشیں جانور لےگئے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ خواتین شادی شدہ تھیں اور انھیں ایک گڑھا کھود کر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے اور پھر انھیں گڑھے میں پھینک دیا گیا ہے۔

اس واقعے کے خلاف کئی مقامات پر احتجاج بھی ہوئے ہیں

نصیر آباد کے پولیس حکام نے بتایا تھا کہ لاشوں پرگولیوں کے نشان ہیں اس بارے میں لیڈی ڈاکٹر شمیم گل مشوانی نے کہا کہ لاشوں کو دیکھنے سے انھیں بھی ایسا لگا لیکن جسم میں کہیں بھی کوئی گولی نہیں تھی اور ناں ہی کوئی ایسا نشان ملا ہے کہ گولی جسم سے باہر نکل گئی ہو۔

نصیر آباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس غلام شبیر شیخ نے گزشتہ روز ڈیرہ مراد جمالی میں ایک اخباری کانفرنس میں بتایا تھا کہ دو لڑکیوں کی لاشیں بابا گوٹھ گاؤں سے دس کلومیٹر دور ویرانے سے ملی ہیں اور دونوں کو ایک ہی گڑھے میں کفن کے بغیر عام کپڑوں میں دفن کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایک لاش کو کتوں نےگڑھے سے نکال لیا تھا لیکن پھر وہاں کچھ شکاری پہنچے اور انھوں نے لاش کو گڑھے میں ڈال کر اوپر مٹی ڈال دی تھی۔

غلام شبیر شیخ کے مطابق زندہ دفن کی گئی لاشوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی نہیں ہوتیں اور ان کی موت دم گھٹنے سے ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طریقے سے لاشوں کو دفن کیاگیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔

پولیس اور ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ جانے والے مقام صحافی ہاشم بلوچ سے میں نے پوچھا کہ ان خواتین کو کہاں دفن کیا گیا تھا توبتایا کہ پولیس ڈاکٹروں کی ٹیم اور ان کی گاڑیاں ویرانوں سے گزرتی ہوئی جب موقع پر پنچیں تو وہاں پہلے سے پولیس اہلکار موجود تھے اور انھوں نے سات آٹھ مقامات پر گڑھے کھود رکھے تھے۔ اس مقام پر چونکہ تازہ مٹی اوپر پڑی ہوئی تھی تو گڑھا کھودنے پر دو خواتین کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ہاشم بلوچ نے کہا کہ لاشیں مسخ شدہ تھیں اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی شناخت بھی نہیں ہو پا رہی۔

اسی بارے میں
’لاسی پہاڑوں میں چلے گئے‘
21 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد