نصیر آباد میں قبر سی خاموشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ستمبر کی ہلکی گرمی والی دوپہر تھی، جب ہم نصیرآباد پہنچے۔ ملکی اور غیرملکی میڈیا میں، بلوچستان کے اس ضلعی ہیڈکوارٹر کا ذکر آج کل زندہ دفن کی گئی عورتوں کے حوالے سے بہت ہو رہا ہے۔ بلوچستان کا ذکر آتے ہی پہاڑوں اور اونٹوں کا خیال آجاتا ہے، مگر نصیرآباد اور ڈیرہ الہ یار سے سبی تک بلوچستان کا اکثر علاقہ میدانی اور ویران ہے۔ اس ویرانے میں کوئٹہ روڈ سے سفر کرتے ہوئے جب ہم نصیرآباد پہنچے تو لوگوں میں ایک ان دیکھی طاقت کا خوف محسوس کیا۔ لوگوں میں خوف اس بات کا نہیں تھا کہ تین یا پانچ عورتوں کا قتل ہوا ہے۔ انہیں ڈر تھا کہ جن سرداروں، وزیر یا ناظم پر ان عورتوں کے قتل کا الزام لگا ہے کہیں وہ انہیں قتل کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھ یا سن نہ لیں۔ نصیرآباد کی بازار میں ایک بزرگ عمرانی بلوچ نے کہا کہ ’ہم ان (عورتوں) کو قتل کریں گے، ان لوگوں نے تو ہاتھ سےگلہ دبایا تھا، میں ہوتا تو گولی مار دیتا، پولیس کیا کریگا، زیادہ سے زیادہ گرفتار کریگا، سزا دیگا مگر ہم ان (عورتوں ) کو نہیں چھوڑیں گے جو سیاہ کار ہوں‘۔ وہ بزرگ اپنی رائے دیتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور مجھ سےغیرت اور بے غیرتی کے معاملے پر بحث شروع کر دی۔ اسی دوران چوراہے پر کھڑے ان بزرگ کے گرد ان کے حامیوں کا ہجوم بڑھتا گیا اور میں نے ’آپ کی رسم آپ کو مبارک ہو‘ کہہ کر بات ختم کر دی۔ نصیرآباد میں ان دنوں ’جتنے منہ اتنی باتیں‘ جیسی صورتحال ہے۔ کسی کو نہ تو چودہ جولائی کی رات قتل کی گئی عورتوں کی درست تعداد کا علم ہے اور نہ ہی قاتلوں کے طریقہ واردات کی خبر۔ مگر سب کو یہ علم ضرور ہے کہ عورتوں کو ویرانے میں قتل کیا گیا ہے۔
سیاہ کاری کے الزام میں قتل کی گئی عورتوں کے کیس کو مقامی پولیس بلائینڈ آف دی بلائنڈ کیس قرار دے رہی ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سبی شبیر شیخ بتا رہے تھے کہ پولیس کے پاس نہ تو مدعی ہے اور نہ ہی گواہ، ہم پریشان ہیں کہ اس تفتیش کو آگے کیسے بڑھائیں۔ سیاہ کار قرار دی گئی عورتوں کا وارث ہوتا ہے نہ کوئی رشتہ دار، وہ سب تو ان کے قاتل ہوتے ہیں۔ پولیس نے دو دن علاقے میں اعلانات کروائے کہ اگر کوئی ان عورتوں کا وارث ہے تو لاشیں مقامی ہسپتال سے لے جائے مگر کوئی نہیں پہنچا۔ تیسرا دن ہے اور پولیس انتظار کر رہی ہے۔ نصیرآباد سے دو گھنٹوں کی مسافت پر عمرانی قبیلے کے آبائی علاقے تمبو میں عورتوں کے قتل پر کوئی سوگ ہے نہ پشیمانی۔ مقامی سطح پر زندگی اپنی روایتی رفتار سے جاری ہے۔ لوگ قتل کی ایسی وارداتوں کو عام سمجھتے ہیں مگر اس بار ان عورتوں کا قتل مقامی سرداروں کےلیے گلے میں پھنسی ہڈی بن گیا ہے۔ ان عورتوں کی کہانی ان کے ناموں کی طرح دو تین راستوں پر چل رہی ہے۔ قتل کی گئی عورتوں کے نام حمیداں عرف عزت خاتون، جنت عرف رحیماں خاتون اور سیانی عرف فاطمہ بتائے جا رہے ہیں۔ عورتوں کے اجتماعی قتل کی واردات چودہ جولائی کی رات ہوئی اور اس کی خبر پندرہ جولائی کو مقامی میڈیا میں آ گئی۔ مقامی پولس حرکت میں نہ آئی تو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امان اللہ خان نے سولہ جولائی کو از خود نوٹس لیا اور رپورٹ طلب کی۔ علاقےمیں کہا جا رہا ہے کہ عورتیں تین تھیں اور پسند کی شادی کے لیے گھر سے نکلی تھیں۔ان میں سے ایک قبیلے کے سردار کی بھتیجی یا بھانجی تھیں اور انہیں اوستہ محمد کے ایک ہوٹل سے سرکاری جیپ میں اٹھایا گیا اور بعد میں قتل کیاگیا۔
دوسری کہانی علاقے میں یہ عام ہے کہ ان عورتوں کو قبیلے کےسردار کے لڑکوں نے دوستی رکھنے کے لیے تنگ کیا۔ جب وہ آمادہ نہیں ہوئیں تو انہیں سیاہ کاری کا الزام لگا قتل کردیا گیا۔ عام حالات میں ایسے قتل کیس کی تفتیش پولیس کا کوئی بھی انسپکٹر سطح کا افسر کرتا ہے مگر علاقےمیں حالات کچھ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کہ پولیس کےضلعی افسر نے ایک مقامی صحافی کو طعنہ دیا کہ تم خود بھی بلوچ ہو پھر مجھ سے کیوں ایسے سوالات کرتے ہو کہ غیرت آ جائے۔ ان حالات میں مقامی ڈاکٹروں نےبھی اپنا کردرا کچھ اس طرح نبھایا کہ قبر کشائی سے انکار کر دیا۔ پولیس کےڈپٹی انسپکٹر جنرل شبیر شیخ کےمطابق مقامی ہسپتال کے ڈاکٹر چونکہ خود بھی عمرانی قبیلے کے ہیں اس لیے انہوں نے پہلے تو قبر کشائی سے انکار کردیا مگر جب انہیں گرفتاری کی دھمکی دی گئی تو آمادہ ہو گئے اور علاقے میں پولیس کےساتھ گئے۔ پولیس کے ضلعی سربراہ کےدفتر میں ایک طالبہ کی تصویر لگی ہوئی تھی جس پرلکھا تھا مجھے سیاہ کار نہیں بننا۔ پولیس ایک ان دیکھے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ پورے کا پورا علاقے پولیس کے خلاف ہوگیا ہے۔ بعض پولیس والوں نے بتایا کہ جب وہ قبر کشائی کےلیے کوٹ بابا علاقے میں جانے کی تیاری کر رہے تھے تب انہیں بتایا گیا کہ عمرانی قبیلے کے لوگ ان پر فائرنگ کریں گے اور ان کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی جائیں گی جو کہ بلوچستان کےاس حصے میں عام بات ہیں۔ پولیس جب بابا کوٹ جا رہی تھی تو وزیراعلی ہاؤس کوئٹہ سے علاقےمیں ایک وائرلیس پیغام جاری ہوا کہ آج قبر کشائی نہ کی جائے۔ صوبے کے پولیس سربراہ سے مقامی افسران کےرابطوں کے بعد صورتِ حال واضع ہوئی کہ وزیراعلی نے ایسا کوئی پیغام نہیں جاری کیا تھا۔ ڈی آئی جی سبی کےمطابق اگر اُس رات قبر کشائی نہ کی جاتی تو ان لاشیں نکال کر کہیں دور دفنا دی جاتیں۔ عورتوں کی لاشیں تلاش کرنے میں پولیس نے جن چار جگہوں پر کھدائی کی تھی ان میں سے ایک گڑھے میں جنگلی جانور دفن تھا۔ ایک اور گڑھے میں دو عورتوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں، جنہیں جانوروں نے نوچا تھا اور جنہیں شکاریوں نے دوبارہ مٹی ڈال کر دفن کیا تھا۔ پولیس کےمقامی سربراہ نےکہا کہ اگر مجھے صرف دو افراد گواہ اور مدعی مل جائیں تو کسی بھی سردار کا نام کیوں نہ ہو، وہ گرفتاریاں شروع کر دیں گے۔ مگر بلوچ قبائلی روایات کی زنجیروں میں بندھی ہوئی عورت اتنی بدنصیب ہوتی ہیں کہ اسے اس طرح قتل ہونے کی صورت میں نہ تو باپ، بیٹے یا شوہر کا کاندھا نصیب ہوتا ہے نہ ہی مدعیت یا گواہی۔ پولیس اپنی تفیش سےبہت خوش اور مطمئن ہے۔ وہ ایک دوسرے کو فون پر بتا رہے ہیں کہ ان دشوار حالات میں دو عورتوں کی لاشیں برآمد کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ میں ان کی باتیں سنتا ہوں اور ان کے دفتر سے باہر سے دیکھتا ہوں، جہاں مجھے صرف مرد کی ایسی حکمرانی دکھائی دیتی ہے جس میں ان عورتوں کا کیس مزید آگے بڑھانے میں شاید ہی کسی کو کوئی دلچسپی ہو۔ | اسی بارے میں کاروکاری کا الزام: چار خواتین قتل29 November, 2006 | پاکستان کاروکاری: سندھ میں چار خواتین قتل29 November, 2006 | پاکستان خواتین زندہ دفن: متفقہ قرارداد01 September, 2008 | پاکستان ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان ’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘13 August, 2008 | پاکستان بگٹی کی برسی پر ہڑتال اور پہیہ جام26 August, 2008 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان پالیسی پر تنقید25 August, 2008 | پاکستان ’لاسی پہاڑوں میں چلے گئے‘21 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||