نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بلوچستان پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ نصیر آباد کے علاقے میں زندہ درگور کی جانے والی خواتین کے واقعہ کی تحقیقات ایک ماہ میں مکمل کرکے اس کی رپورٹ کمیٹی کو دی جائے۔ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ایس ایم ظفر کی صدارت میں ہوا جس میں پولیس کی طرف سے اس واقعہ کے متعلق اب تک کی جانے والی تحقیقات کے بارے دی جانے والی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ آئی جی بلوچستان آصف نواز نے کمیٹی کو بتایا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قتل کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس مقدمے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جنہوں نے اس واقعہ میں ملوث افراد کے بارے میں بتایا جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک جو تفتیش ہوئی ہے اُس کے مطابق دو لڑکیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ آئی جی بلوچستان نے کہا کہ اس تفتیش کے حوالے سے مختلف پولیس افسروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ سنیٹر یاسمین شاہ جنہوں نے اس واقعہ کو سینیٹ میں اُٹھایا تھا انسانی حقوق کی کمیٹی کو بتایا کہ اُنہیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اسرار اللہ زہری کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہے جس میں کمیٹی کے چیئرمین نے آئی جی بلوچستان سے کہا کہ اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عبدالرحیم نے کہا کہ واقعہ 26 جولائی کا ہے لیکن ابھی تک اس واقعہ کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان خواتین کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے تو پھر وہ افراد کہاں ہیں جنہوں نے ان خواتین کے ساتھ کاروکاری کی۔ انہوں نے کہا کہ اُن کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے اور وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ ملزمان کو سامنے لائے بغیر کوئی جرگہ خواتین کو زندہ درگور کرنے کے احکامات جاری کرے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اُن کی اطلاع کے مطابق قتل کی جانے والی خواتین ضلعی ناظم سردار فتح علی کی رشتہ دار ہیں اور اُن کی عمرانی قبیلے کے ساتھ دشمنی بھی بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صادق عمرانی بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں شامل ہیں اور جب تک ان افراد سے بھی حالات معلوم نہیں کیے جاتے اُس وقت تک اس مقدمے کی تفتیش میں پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ سینیٹر عباس کمیلی نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس واقعہ میں کتنی خواتین کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا معاشرہ غیر انسانی ہے جہاں پر ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔‘ سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے کہ اس مقدمے کی تفتیش سرد خانے میں نہ ڈال دی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن عبداللہ خلجی جنہیں خصوصی طور پر اس اجلاس میں شرکت کے لیے بُلایا گیا تھا کہا کہ ایسی تمام رسوم اسلام کے مافی ہیں جہاں پر کسی انسان کی جان لینا مقصود ہو۔ پولیس ریسرچ بیورو کے ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ نے کہا کہ پہلے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں پولیس کا نظام نہیں تھا لیکن اب وہاں پر 30 اضلاع میں پولیس کا نظام رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو قتل کرنے کے واقعہ کی تفتیش صرف صوبائی پولیس ہی کرسکتی ہے البتہ اگر صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے درخواست کرے تو وفاقی حکومت اس کی تفتیش وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے بھی کرواسکتی ہے۔ انہوں نے کہا خواتین کو قتل کرنے جیسے واقعات میں جب تک ریاست درخواست گذار نہیں بنتی اُس وقت تک ایسے واقعات میں کمی آنا مشکل ہے۔ انہوں تجویز دی کے عدالتوں سے بھی درخواست کی جائے کہ ایسے واقعات میں فریقین کے درمیان صلح ہونے کے بعد بھی ایسے واقعات میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ | اسی بارے میں کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ03 September, 2008 | پاکستان نصیر آباد میں قبر سی خاموشی04 September, 2008 | پاکستان بلوچ خواتین: لاشیں لاوارث پڑی ہیں04 September, 2008 | پاکستان خواتین کا قتل، کوئٹہ میں احتجاج05 September, 2008 | پاکستان بلوچستان:چھ ماہ میں سڑسٹھ قتل 07 September, 2008 | پاکستان ’تحقیقات نہیں صرف نگرانی‘07 September, 2008 | پاکستان عورتوں کا قتل، نصیر آباد میں خاموشی09 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||