بلوچستان:چھ ماہ میں سڑسٹھ قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ میں غیرت کے نام پر دس مردوں اور ستاون خواتین کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق ستر سے اسی افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ان تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں اب اضافہ ہو رہا ہے اور حکام کو چاہیے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ نصیر آباد میں مبینہ طور پر پانچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کی خبر نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں طور پر پیش کی گئی۔ اس واقعہ کی تصدیق اب تک نہیں ہو سکی اوراب تک صرف دو خواتین کی لاشیں ملی ہیں جنہیں بغیر کفن کے اپنے کپڑوں میں ایک گڑھے میں ڈالا گیا تھا ۔ باقی تین خواتین کی لاشیں کہاں ہیں۔ یہ سوال ہر ایک کی زباں پر ہے۔ پولیس افسر غلام شبیر شیخ کا کہنا ہے کہ یہ صرف دو خواتین تھیں جنہیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔ نصیر آباد سے پولیس حکام نے ابتدائی طور پر اس واقعہ کے بارے میں بتایا تھا کہ زمین کے تنازعے پر یہ قتل ہوا ہے اور اب گرفتار افراد نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے سیاہ کاری کے الزام میں ان خواتین کو ہلاک کیا ہے۔
اس واقعہ کے بارے میں علاقے سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر صادق عمرانی نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوے کہا کہ اس واقعہ کو میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں نے خواہ مخواہ ہوا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو قانون کے مطابق سب کچھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس وقت موقع پر لوگوں سے پوچھا کہ اگر وہ اپنے گھر کی کسی خاتون کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھیں تو وہ کیا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی طور اس مقدمے میں اثر انداز نہیں ہو رہے۔ کوئٹہ میں دو روز پہلے غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد نے اس واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ سندھ اسمبلی کے علاوہ سینیٹ میں اس واقعہ کے مذمت کی گئی لیکن بلوچستان اسمبلی میں اس بارے میں کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔
ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے ریجنل کوآرڈینیٹر علاؤ الدین خلجی کا کہناہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ میں ستاون خواتین اور دس مردوں کو غیر کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم کی گزشتہ سال کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں ستر سے اسی افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا۔ علاؤالدین خلجی کا کہنا ہے کہ نصیر آباد کے واقعہ میں ان کی اطلاعات کے مطابق پانچ خواتین کو مارا گیا ہے اور پھر یہ تحقیق کیے بغیر کہ وہ مر گئی ہیں یا نہیں انہیں دفن کر دیا گیا۔ مقامی سطح پر اس بارے میں حقائق سامنے نہیں آرہے۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں کسی واقعہ کو دیکھ کر اشتعال میں آجانے یعنی سڈن پرووکیٹو کا قانون ہے لیکن بیشتر لوگ اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی دشمنیاں اور بدلے لیتے ہیں۔ ماہرین اور عام لوگوں کے مطابق جن علاقوں میں ایسے واقعات زیادہ ہو تے ہیں وہاں تعلیم کا فروغ اور لوگوں کے معاشی مسائل کا حل انتہائی ضروری ہے۔ |
اسی بارے میں زندہ دفنانے پر کمیشن، گرفتاریاں 01 September, 2008 | پاکستان نصیر آباد میں قبر سی خاموشی04 September, 2008 | پاکستان کوہستان میں جعلی غیرت کے نام پر قتل26 September, 2005 | پاکستان پنجاب: پانچ عورتیں قتل کر دی گئیں02 August, 2006 | پاکستان تشدد: شوہر نے سر، پلکیں مونڈ دیں 25 July, 2008 | پاکستان بیٹیوں کا قاتل گرفتار، مقدمہ درج25 December, 2005 | پاکستان نواب شاہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل03 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||