کاروکاری: جتوئی سردار کی ضمانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے جتوئی سردار میر عابد حسین کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک جوڑے سائرہ جتوئی اور اسماعیل سومرو کو ایک جرگے میں قتل کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس یاسیمن عباسی کی عدالت میں پیر کو ایم پی اے عابد حسین جتوئی پیش ہوئے۔ ان کے وکیل مجیب پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر یہ الزام سیاسی مخالفت اور بدنیتی پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عابد جتوئی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سولہ ہزار ووٹوں سے شکست دیکر شکارپور سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا اغواء سے کوئی تعلق ہی نہیں اس مقدمے میں دیگر لوگ ملوث تھے مگر بعد میں عابد جتوئی کا نام زبردستی شامل کیا گیا ہے۔
جسٹس یاسمین عباسی نے ان کی درخواست منظور کرکے دو جولائی تک ان کی ضمانت منظور کرلی۔ سردار عابد حسین جتوئی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی جرگے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ لڑکے لڑکی کو مارنے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے، دراصل پولیس صوبائی حکومت کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ان کی قومی اسمبلی کی نشست پر ڈاکہ ڈال کر لی گئی ہے، اس نشست پر ڈاکٹر ابراہیم جتوئی نے کامیابی حاصل کی تھی او صوبائی نشست بھی چھیننا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں جمہوریت کی چمپیئن بنتی ہے اور حکومت میں آکر وہ مخالفین کو برداشت بھی نہیں کر پاتی ۔ واضح رہے کہ شکارپور کی قومی اسمبلی کی نشست پر این پی پی کے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی اور صوبائی نشست پر عابد حسین جتوئی نے کامیابی حاصل کی تھی، پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سولہ پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن پر دوبارہ پولنگ میں قومی اسمبلی کی نشست پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما آفتاب شعبان میرانی اور صوبائی اسمبلی پر میر عابد حسین نے دوبارہ کامیابی حاصل کی تھی۔ | اسی بارے میں شائستہ کیس، الطاف حسین کی دھمکی15 January, 2004 | پاکستان ولی کے بغیر شادی جائز ہے: سپریم کورٹ19 December, 2003 | پاکستان ’شائستہ کو طلاق دے دی‘03 December, 2003 | پاکستان پیار کیا کوئی چوری نہیں کی02 December, 2003 | پاکستان ٹھٹہ:تشدد کا نیا واقعہ30 September, 2003 | پاکستان سُسر نے زنجیروں میں باندھا 30 September, 2003 | پاکستان والدین بچوں کے گھر نہ اجاڑیں، عدالت عالیہ11 November, 2003 | پاکستان سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم کیوں ہے؟21 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||