BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 June, 2008, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاروکاری: جتوئی سردار کی ضمانت

عابد جتوئی(دائیں)
عابد حسین جتوئی نے صوبائی اسمبلی میں کامیابی حاصل کی تھی پھر پی پی پی کے دھاندلی کے الزامات کے بعد دوبارہ پولنگ میں بھی وہ کامیاب ہوئے
سندھ ہائی کورٹ نے جتوئی سردار میر عابد حسین کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک جوڑے سائرہ جتوئی اور اسماعیل سومرو کو ایک جرگے میں قتل کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس یاسیمن عباسی کی عدالت میں پیر کو ایم پی اے عابد حسین جتوئی پیش ہوئے۔ ان کے وکیل مجیب پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر یہ الزام سیاسی مخالفت اور بدنیتی پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عابد جتوئی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سولہ ہزار ووٹوں سے شکست دیکر شکارپور سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا اغواء سے کوئی تعلق ہی نہیں اس مقدمے میں دیگر لوگ ملوث تھے مگر بعد میں عابد جتوئی کا نام زبردستی شامل کیا گیا ہے۔

الزام کی تردید
 نیشنل پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عابد جتوئی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سولہ ہزار ووٹوں سے شکست دیکر شکارپور سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا اغواء سے کوئی تعلق ہی نہیں اس مقدمے میں دیگر لوگ ملوث تھے مگر بعد میں عابد جتوئی کا نام زبردستی شامل کیا گیا ہے
ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ
ان کا کہنا تھا کہ عابد حسین جتوئی کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے سے روکنے کے لیے صوبائی حکومت یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

جسٹس یاسمین عباسی نے ان کی درخواست منظور کرکے دو جولائی تک ان کی ضمانت منظور کرلی۔

سردار عابد حسین جتوئی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی جرگے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ لڑکے لڑکی کو مارنے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے، دراصل پولیس صوبائی حکومت کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ان کی قومی اسمبلی کی نشست پر ڈاکہ ڈال کر لی گئی ہے، اس نشست پر ڈاکٹر ابراہیم جتوئی نے کامیابی حاصل کی تھی او صوبائی نشست بھی چھیننا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں جمہوریت کی چمپیئن بنتی ہے اور حکومت میں آکر وہ مخالفین کو برداشت بھی نہیں کر پاتی ۔

واضح رہے کہ شکارپور کی قومی اسمبلی کی نشست پر این پی پی کے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی اور صوبائی نشست پر عابد حسین جتوئی نے کامیابی حاصل کی تھی، پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سولہ پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن پر دوبارہ پولنگ میں قومی اسمبلی کی نشست پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما آفتاب شعبان میرانی اور صوبائی اسمبلی پر میر عابد حسین نے دوبارہ کامیابی حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں
’شائستہ کو طلاق دے دی‘
03 December, 2003 | پاکستان
پیار کیا کوئی چوری نہیں کی
02 December, 2003 | پاکستان
ٹھٹہ:تشدد کا نیا واقعہ
30 September, 2003 | پاکستان
سُسر نے زنجیروں میں باندھا
30 September, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد