BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 September, 2008, 18:21 GMT 23:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ خواتین: لاشیں لاوارث پڑی ہیں

نصیر آباد پولیس سٹیشن
نصیر آباد پولیس سٹیشن جہاں نہ کوئی مدعی آیا نہ گواہ
بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ دو خواتین کی لاشیں ورثا کے حوالے کر دی جائیں لیکن جمعرات کی شام تک کوئی ان کے لاشیں لینے کے لیے نہیں آیا۔

دریں اثنا پولیس حکام نے دو متعلقہ تھانوں کے انسپکٹروں کو معطل کر دیا ہے جبکہ چار گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

نصیر آباد میں سیاہ کاری کے الزام میں قتل کی گئی دو خواتین کی لاشیں تاحال ڈیرہ مراد جمالی ہسپتال میں پڑی ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیر آباد شبیر احمد شیخ نے بتایا ہے کہ محمد مراد عمرانی ولد نہال خان نامی شخص لاشیں وصول کرنے آیا تھا جس کی تصدیق صوبائی وزیر بابو امین عمرانی نے بھی کی ہے جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے لاشیں ورثا کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے لیکن وہ شخص پھر لوٹ کر نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مزید کچھ دن تک ورثا نہیں آتے ہیں تو وہ یہ لاشیں میونسپل کارپوریشن والوں کو دیں گے جو انہیں امانتاً دفن کریں گے کیونکہ ہسپتال میں نہ تو لاشوں کو رکھنے کی سہولت ہے اور نہ ہی ائرکنڈیشن ہے۔

شبیر احمد شیخ نے بتایا ہے کہ گرفتار افراد نے مختلف کہانیاں بیان کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ زمین کے تنازعے پر جھگڑا ہوا جس میں خواتین کو گولیاں لگیں۔ لیکن جب لاشیں ملنے پر ثابت ہوا کہ انہیں بغیر کفن کے دفن کیا گیا تھا۔

یاد رہے پولیس سرجن لیڈی ڈاکٹر شمیم گل مشوانی نے کہا ہے کہ نصیر آباد پولیس کے اہلکار تاحال ان سے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ لینے نہیں آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان خواتین سے کوئی غلط کام ہوا ہے کیونکہ اس واقعے کو دو ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے لیکن اس کے لیے انہوں نے کپڑوں کے ٹکڑے لیے ہیں جنہیں لبارٹری بھیجا جائے گا۔

یا د رہے اس واقعہ پر بلوچستان ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا لیکن پولیس عدالت میں تاحال صحیح صورتحال پیش نہیں کر پائی۔

اسی بارے میں
’لاسی پہاڑوں میں چلے گئے‘
21 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد