BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 21:41 GMT 02:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گند اچھالنے سے بدبو ہی آئے گی‘

اسلام آباد میں سیمینار
روبینہ عرفان نے کہا کہ واقعے کی شفاف طریقے سے انکوائری ہونی چاہیے
بلوچستان کی صوبائی وزیر قانون روبینہ عرفان نے کہا ہے کہ پانچ خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعے کو میڈیا میں زیادہ اُچھالا نہ جائے کیونکہ ’یہ ایک گند ہے اور اس کو اُچھالنے سے صرف بد بو ہی پھیلے گی۔‘

سنیچر کے روز اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے این سی ایس ڈبلیو کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے ایک مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی امور برائے بلوچستان اور قانون کی صوبائی وزیر روبینہ عرفان نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں آج تک کسی عورت کو زندہ دفن نہیں کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر قانون نے مذاکرے میں یہ تو نہیں کہا کہ نصیر آبا د میں خواتین کو زندہ دفن کیا گیا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ جب بلوچ بزرگ رہنما سردار اکبر بگٹی کو زندہ غار میں دفن کر کے مار دیا گیا تھا تو آپ لوگوں نے اتنا شور نہیں مچایا تھا تو اب خواتین کے معاملے کو کیوں خوب اُچھالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کو چاہیے کہ وہ نصیر آباد میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو زیادہ نہ اُچھالیں کیونکہ یہ گھر کا معاملہ تھا اور اسے گھر میں ہی طے کرنا چاہیے۔

بگٹی کو زندہ دفنا دیا تو کوئی نہ بولا
 جب بلوچ بزرگ رہنما سردار اکبر بگٹی کو زندہ غار میں دفن کر کے مار دیا گیا تھا تو آپ لوگوں نے اتنا شور نہیں مچایا تھا تو اب خواتین کے معاملے کو کیوں خوب اُچھالا جا رہا ہے
روبینہ عرفان

صوبائی وزیر قانون کے مطابق میڈیا پر خواتین کے واقعے پر بحث کرنے سے ’صرف بد بو ہی پھیلے گی کیونکہ یہ ایک گند ہے۔ تاہم غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا کو نصیر آباد جا کر اصل حقائق جاننے کی مکمل آزادی ہے۔ اور جب تک اصل حقائق سامنے نہیں آ جاتے اس وقت تک تمام لوگ اس واقعے کے بارے میں محض قیاس آرائیاں ہی کر سکتےہیں۔‘

واضع رہے کہ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں گذشتہ ماہ پانچ خواتین کو مبینہ طور پر پسند کی شادی کی خواہش کرنے پر زندہ دفن کرنے کے واقعے کو سینیٹر اسرار اللہ زہری نے بلوچستان کی قبائلی روایات کی پاسداری قرار دیا تھا۔

روبینہ عرفان نے کہا کہ سنیٹر یاسمین شاہ کو یہ حق بالکل نہیں ہے کہ سینیٹر اسرار اللہ زہری پر الزامات لگائیں کہ وہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ کیونکہ اسرار اللہ زہری ایک باوقار سردار اور ایک قبیلے کے باعزت بیٹے ہیں۔

یاد رہے کہ سنییٹر یاسمین شاہ نے سب سے پہلے خواتین کو زندہ دفن کرنے کے واقعے کا سینٹ میں نوٹس لیا تھا۔

روبینہ عرفان نے کہا کہ وہ خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتی ہیں اور اس میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے لیکن پہلے اس واقعے کی شفاف طریقے سے انکوائری ہونی چاہیے۔

مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے ہیومن رائٹس آف پاکستان کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان نے کہا کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کا مسئلہ صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے جہاں ہر روز خواتین کے ساتھ کوئی نہ کوئی زیادتی ہوتی رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پاکستان بننے کے ساٹھ سال بعد بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں ابھی تک سماجی تبدیلی کا عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ نصیر آباد جیسے واقعات روکنے کے لیے لڑائی بلوچستان میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں لڑنی چاہیے جہاں بیٹھے لوگ اپنے آپ کو خداسے زیادہ طاقور سمجھتے ہیں اور ان ہی لوگوں نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے ابھی تک قبائلی نظام کو قائم رکھا ہوا ہے۔

مذاکرے میں شامل غیر سرکاری تنظیموں کے دیگر مقررین نے خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کرنے پر حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا خواتین کے حقوق کے منافی جتنے بھی قوانین موجود ہیں ان کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

قبائلی خاتونمدعی نہ گواہ
خواتین کا قتل: نصیر آباد میں قبر سی خاموشی
پوسٹ مارٹم رپورٹ
زندہ دفنانے سے پہلے ڈنڈوں سے ہلاک
خاتون کا خاکہ(فائل فوٹو)’غیرت کے نام پر قتل‘
’جعفر آباد میں 3 لڑکیاں ہلاک کردی گئیں‘
اسی بارے میں
’تحقیقات نہیں صرف نگرانی‘
07 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد