چھ ماہ میں دو سو پچیس عورتیں قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عورتوں کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کی ایک سروے کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں صرف گزشتہ چھ ماہ کےدوران دو سو پچیس عورتوں کو کاروکاری الزام میں قتل کیا گیا ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ غیرت کےنام پر قتل کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں نام بدل جاتے ہیں مگر رسم و روایات وہی رہتی ہیں اور عورتیں ایک فرسودہ الزام کےتحت قتل ضرور کی جاتی ہیں ۔ عورت فاؤنڈیشن اسلام آباد کے ملک اصغر نے بی بی سی اردوڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ اس سروے میں جنوری سے جون تک قتل کی گئی عورتوں کی تفصیل شامل ہے۔ جولائی سے ستمبر کی تفصیل اس میں شامل نہیں ہے ۔ عورت فاؤنڈیشن کی سروے کےمطابق کاروکاری کے علاوہ دیگر تنازعات میں ان چھ ماہ کے دوران پاکستان میں قتل کی گئی عورتوں کی تعداد سات سو بائیس ہے، جس میں خاندانی تنازعات اور رہزنی کی وارداتیں بھی شامل ہیں ۔ ملک اصغر کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں قتل کی گئی دو عورتوں اور سندھ میں اپنے باپ کے ہاتھوں قتل ہونے والی بچیوں سمیت دیگر واقعات کی تفصیل اکتوبر میں جاری کی جائی گی ۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر عورتوں کےقتل کو تاحال سماجی حمایت حاصل ہے۔ جس کی تازہ مثال بلوچستان میں سیاہ کاری کے الزام میں قتل کی گئی دو عورتیں ہیں۔ بلوچستان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سبی شبیر شیخ نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ سیاہ کاری کےالزام کے تحت قتل کی گئی عورتوں کے بارے میں انہوں نے تفتیش ایک اخباری رپورٹ کے بعد شروع کی تھی ۔ پولیس کو مقامی آبادی کی مدد اور حمایت حاصل نہ تھی جس کی وجہ سے ان کا کام مزید دشوار ہو گیا۔ سینیئر پولیس افسر کےمطابق جب مدعی ہو نہ گواہ تو اخباری اطلاعات پر صرف لاشیں ہی مل سکتی ہیں پولیس کسی کو اخِباری رپورٹوں پر پھانسی نہیں چڑھا سکتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب علاقے کے ڈاکٹر اور پولیس افسر بھی سیاہ کاری کو درست سمجھتے ہوں تو وہ مقدمات کی تفتیش کیا خاک کریں گے۔ پاکستان میں کارو کاری یا سیاہ کاری کے تحت عورتوں کے قتل کے خلاف مختلف غیر سرکاری تنظیمیں برسوں سے مہم چلا رہی ہیں جس کی وجہ سے ان تنظیموں کےمطابق معاشرے میں آگہی تو آ رہی ہے لیکن کاروکاری کے تحت عورتوں کےقتل میں تاحال کوئی خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہوسکی ہے ۔ عورت فاؤنڈیشن سندھ کے کو آرڈینیٹر لالاحسن پٹھان کا کہنا ہے کہ کاروکاری کے خلاف پاکستان کی سول سوسائٹی کی تحریکوں کی وجہ سے دو ہزار چار میں آنر کرائم ایکٹ نافذ کیا گیا تھا۔ جس کےتحت دفعہ تین سو دو کی تحت قتل کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے اور کاروکاری مقدمات کی ایف آئی آر میں سے اچانک غیرت میں آنے یا طیش میں آنے کے الفاظ خارج کیے گئے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروکاری میں عورت کے قاتل اکثر اس کےقریبی مرد رشتہ دار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے دو ہزار چار کا غیرت کےنام پر جرم والا ایکٹ بھی غیر مؤثر بن جاتا ہے کیونکہ عورت کے اس قتل کو کمپاؤنڈیبل افینس بنایا گیا ہے جس میں ایک مرد رشتہ دار اپنے دوسرے مرد رشتہ دار کو عدالت میں خون معاف کر دیتا ہے اور مجرم با آسانی رہا ہوجاتے ہیں۔ عورت فاؤنڈیشن کی سروے کےمطابق پاکستان میں کاروکاری الزام کے تحت قتل کی گئی عورتوں کے مقدمات مقامی عدالتوں میں سست رفتاری سے چلتے ہیں جس کی وجہ سے درخواست گزار کو جلد انصاف کی امید نہیں رہتی۔ سروے کےمطابق ملک میں کاروکاری کےالزام کےتحت گزشتہ چھ ماہ کے دوران قتل ہونے والی عورتوں کے کیسوں میں سے صرف دو ملزمان کو سزا ہوسکی ہے۔ باقی تمام کیس متعلقہ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاہ کاری یا کارو کاری کی آڑ میں عورتوں کے قتل کے سلسلے کا پاکستان میں مکمل خاتمہ تو فی الوقت ممکن نہیں مگر نئی جمہوری حکومت قانون سازی اور قانون پر سختی سے عمل کے ذریعے عورتوں کے خلاف رسوم و روایات کے نام پر جاری قتل میں کمی ضرور کروا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں نصیرآباد، ’دو نے اقبال جرم کر لیا‘22 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘12 September, 2008 | پاکستان ’تحقیقات نہیں صرف نگرانی‘07 September, 2008 | پاکستان تاخیری حربوں سے کام نہیں لیا: ربانی02 September, 2008 | پاکستان خواتین زندہ دفن: متفقہ قرارداد01 September, 2008 | پاکستان ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان ’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘13 August, 2008 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان پالیسی پر تنقید25 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||