’صرف دو عورتیں قتل ہوئی تھیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کےعلاقے باباکوٹ میں غیرت کےنام پر قتل کی گئیں خواتین کے بارے میں مقامی ضلعی ناظم اور عورتوں کے عمرانی قبیلے کےسردار فتح علی عمرانی نے کہا ہے کہ مقتول عورتیں ان کی قریبی رشتہ دار تھیں اور ان کو غیرت کے نام پر کارو کاری رسم کے تحت قتل کیا گیا تھا۔ سردار عمرانی نے کہا ہے کہ ان کے علاقے باباکوٹ میں پانچ عورتوں کو زندہ دفن کرنے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ وہ صرف دو عورتیں تھیں جنہیں کارو کاری رسم کےتحت قتل کرنے کے بعد اسلامی روایات کے تحت دفن کیا گیا۔ ضلعی ناظم فتح علی عمرانی نے پانچ عورتوں کو زندہ دفن کرنے کی خبریں مقامی میڈیا میں آنے کے بعد اپنا آبائی علاقہ چھوڑ دیا تھا اور مکمل خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ سردار عمرانی نے تقریباً دو ماہ کی خاموشی کے بعد پہلی مرتبا مقامی میڈیا سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے اوستہ محمد میں ایک صحافی ستار ترین سے فون پر بات چیت کی اور صحافی نے تمام اخبارات کو ان کا بیان جاری کردیا تھا۔ سردار عمرانی کےحوالے سے جمعرات کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ ان عورتوں کو کاروکاری رسم کےتحت قتل کرنے کا فتویٰ ایک جرگے میں جاری ہوا جو ان کی سربراہی میں عوتوں کی ’بدکاری‘ کی اطلاعات آنے کے بعد کیا گیا تھا۔ مگر فتح علی عمرانی کا تردیدی بیان بھی جاری ہوا کہ ان کی سربراہی میں عورتوں کو قتل کرنے کے لیے کوئی جرگہ طلب نہیں کیا گیا تھا۔ فتح علی عمرانی کےمطابق کارو کاری رسم کےتحت قتل کی گئیں دو عورتیں میں سے ایک عزت خاتون شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھی جبکہ دوسری لڑکی غیرشادی شدہ تھی۔ باباکوٹ کیس کے بعد پہلی مرتبہ انہوں اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروکاری رسم کی روایت صوبہ سندہ میں بھی جاری ہے اور ان عورتوں کو ان کے مرد رشتہ داروں نے قتل کیا۔ سردار عمرانی نے دعویٰ کیا کہ پولیس کو ان کےعلاقے سے تیسری چوتھی یا پانچویں عورت کی لاش نہیں ملے گی کیونکہ جولائی کے وسط میں صرف دو عورتوں کو قتل کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچ روایات کے تحت غیرت کے نام پر قتل کی گئیں عورتوں کے پوسٹ مارٹم کروانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ سردار عمرانی عورتوں کے قتل کیس کے بعد پہلی مرتبہ اپنے آبائی علاقے باباکوٹ واپس پہنچے ہیں اور انہوں نے اپنے قبیلے کے لوگوں سے مشاورت شروع کردی ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی انسپکٹر جنرل سبی شبیر شیخ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ضلعی ناظم سردار فتح علی عمرانی کے بیان کے بعد انہیں عورتوں کے قتل کیس میں شامل تفیش کیا جائیگا کیونکہ بقول ڈی آئی جی پولیس انہیں تاحال عورتوں کےقاتلوں کا پتہ نہیں مل سکا ہے۔ ضلعی ناظم اور قبیلے کے سردار کی حیثیت میں فتح علی کا بیان تفیش میں مددگار ثابت ہوگا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ غیرت کےنام پر قتل کی گئیں عورتوں کے کیس میں گرفتار افراد ان عورتوں کے اصل قاتل ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ پولیس کو ایک شخص رحمت اللہ عمرانی کی تلاش ہے جس نے عورتوں پر کلاشنکوف فائر کیا تھا اور پولیس ٹریکٹر ڈرائیور عارف کو بھی تلاش کر رہی ہے جس نے عورتوں کے قتل کے بعد دفنانے کے لیے گھڑا کھودا اور لاشوں کےاوپر مٹی ڈالنے کے بعد اس قبر پر ٹریکٹر چلاکر زمین ہموار کردی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضلعی ناظم کی گرفتاری اس مرحلے پر ضروری نہیں مگر انہیں شامل تفتیش ضرور کیا جائیگا تا کہ اصل حقائق معلوم ہوسکیں۔ |
اسی بارے میں خواتین کا قتل، کوئٹہ میں احتجاج05 September, 2008 | پاکستان زندہ دفنانے پر کمیشن، گرفتاریاں 01 September, 2008 | پاکستان تشدد: شوہر نے سر، پلکیں مونڈ دیں 25 July, 2008 | پاکستان نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘12 September, 2008 | پاکستان ’گند اچھالنے سے بدبو ہی آئے گی‘13 September, 2008 | پاکستان عورتوں کا قتل، نصیر آباد میں خاموشی09 September, 2008 | پاکستان بلوچ خواتین: لاشیں لاوارث پڑی ہیں04 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||