BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبائلی خواتین جنگ سے زیادہ متاثر‘

معاشرتی ناہمواریوں کے علاوہ خواتین حالات کی ستم ظریفیوں کا شکار بھیں ہیں
پاکستان میں عورتوں کی حقوق کے لیے سرگرم غیر حکومتی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں رواں سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران آٹھ سو اکیس خواتین کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق آٹھ سو اکیس میں سے سب سے زیادہ مقدمات عورتوں کے مبینہ قتل کے سامنے آئے ہیں اور ان نو مہینوں کے دوران تین سو چوبیس خواتین کو قتل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چوالیس خواتین نے خودکشی، انچاس کو اغواء اور تئیس کو عزت کےنام پر قتل کیا گیا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کی اس رپورٹ میں پاکستان کے جنگ زدہ قبائلی علاقوں میں عورتوں پرہونے والے مبینہ تشدد کے بہت ہی کم مقدمات ظاہر کیے گئے ہیں۔

تنظیم کی صوبائی سربراہ شبینہ ایاز اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں عورتوں کو مبینہ طور پر تشدد بنانے کو روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

اسرار زہری کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

ان کے بقول’جب آپ اس عمل کو اپنی روایات کا حصہ سمجھتے ہیں تو لوگ اس سے ذرائع ابلاغ یا پولیس کے ساتھ رپورٹ کر نے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔
انہوں نے بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں پانچ خواتین کو مبینہ طور پر’زندہ درگور‘ کرنے کے حوالے سے سینیٹر اسرار اللہ زہری کی سینٹ میں دیئے جانے والے بیان کا حوالہ دیا جب انہوں نے کہا کہ’یہ بلوچ روایات کا حصہ ہے۔‘

شبینہ ایاز کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں فوجی کارروائی کے دوران بے گھر ہونے والوں میں سے خواتین اور بچے اس المیہ کی دوگنی قیمت ادا کررہے ہیں۔ان کے بقول کچھ روز قبل جب ان کی ایک ٹیم نے ضلع دیر میں ان بے گھر ہونے والی خواتین سے ملاقاتیں کیں تو ان میں ایک بات یہ سامنے آئی کہ خواتین دو طرح یعنی بلواسطہ اور بلا واسطہ متاثر ہو رہی ہیں۔

شبینہ کے بقول قبائلی علاقوں میں بدامنی سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہو رہی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین کے ساتھ بات چیت کے دوران معلوم ہوا ہے کہ وہ نہ صرف فوجی کارروائی کے دوران اپنے پیاروں کی ہلاکت کی صورت میں دکھ درد کا سامنا کررہی ہیں بلکہ نقل مکانی اور کیمپ میں قیام کے دوران حکومتی سہولیات سےمردوں کے مقابلے میں کم مستفید ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک خاتون نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ ’جب ہمارے گاؤں پر بمباری شروع ہوئی تو ہم اپنے بچوں کے ہمراہ گھر سے نکل پڑے اور میں نے اپنی دو ماہ کی بچی کو ایک کمبل میں لپیٹ لیا لیکن جب ہم دیر پہنچے تو میں نےکمبل کھول کر دیکھا توبچی نہیں تھی، وہ راستے میں کہیں گر گئی تھی اور مجھے اپنی بچی کو ہمیشہ کے لیے کھونے کا پتہ ہی نہیں چلا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد