بینکوں کو خواتین کی گواہی قبول نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سٹیٹ بینک کی گورنر ایک خاتون ہیں لیکن پاکستان کے بینکوں میں مالی معاملات اور مالی لین دین میں خواتین کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے۔ بینک افسران کا موقف ہے کہ یہ سابق فوجی سربراہ ضیاءالحق کے دور میں بننے والے قانونِ شہادت کے مطابق ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونِ شہادت میں اس قسم کی کوئی بات نہیں جس کے مطابق خاتون کی گواہی قابلِ قبول نہ ہو۔ پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے میں پیر کو ایک خبر شائع ہوئی جس کے مطابق بینکوں میں مالی لین دین میں خواتین کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ بینک افسران کا کہنا ہے کہ قانونِ شہادت سن انیس سو چوراسی سے قابل عمل ہے اور اسی کی رو سے مالی معاملات اور مالی لین دین کے دوران طے پانے والے سمجھوتوں میں صرف خواتین کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ مرکزی بینک کے ترجمان سید وسیم الدین کا کہنا ہے کہ بینک قانونِ شہادت کی پاسداری کررہے ہیں اور سٹیٹ بینک اس قانون کو تبدیل نہیں کرسکتا جس کی رو سے دو مرد یا پھر ایک مرد اور دو خواتین کی گواہی قابل قبول ہے جبکہ اس قانون کی رُو سے مرد کے بغیر صرف خواتین کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کے بقول قانون میں ترمیم کا کام پارلیمنٹ کا ہے اور ملکی ادارے قانون کی پاسداری کرتے ہیں، قانون سازی نہیں۔ تاہم حکمراں جماعت کے سینیٹر بابر اعوان بینکوں کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے قانون میں عورت کی گواہی قابلِ قبول ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں کوئی بھی قانون قران اور سنت کے منافی نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’قانونِ شہادت 1984 جو گواہی سے متعلق قانون ہے اس میں بھی واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ مردوں اور عورتوں دونوں کی گواہی قابلِ قبول ہے اور اس کے علاوہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 میں لکھا ہوا ہے کہ عورت اور مرد میں امتیاز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہذٰا جس کسی نے بھی ایسا کیا ہے وہ یا تو قانون سے نابلد ہے یا پھر وہ قانون کا باغی ہے۔‘ سابق صدر ضیاء الحق کے دور میں بنائے جانے والے قانونِ شہادت کے آرٹیکل سترہ میں بینکوں کے ساتھ مالی لین دین کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ملک کے معروف وکیل سابق جسٹس رشید اے رضوی کہتے ہیں کہ ’اس قانون کے مطابق مالی لین دین اور تحریری سمجھوتوں میں دو مردوں کی گواہی یا پھر ایک مرد اور دو خواتین کی گواہی ہونا چاہیے تاکہ ایک خاتون اگر بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے، لیکن اگر پہلی عورت کو سارے حقائق یاد ہیں تو پھر دوسری عورت کی گواہی کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ رشید رضوی کا کہنا ہے کہ قانونِ شہادت میں اس ابہام کو دور کرنے کے لئے صرف پارلیمنٹ ہی مجاز ہے اگر وہ چاہے تو اس قانون میں ترمیم کرسکتی ہے۔ سن 1984 میں تشکیل پانے والے اس قانون کے بعد پپلزپارٹی کی سابق چئیر پرسن مرحومہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ ملک کی وزیرِ اعظم رہیں لیکن ان کے دورِ اقتدار میں بھی اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہےکہ پپلزپارٹی کی حکومت اس بار اس قانون میں ابہام کو ختم کرنے کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے۔ | اسی بارے میں خواتین کے لیے نئے قانون کا وعدہ02 September, 2008 | پاکستان بلوچستان:چھ ماہ میں سڑسٹھ قتل 07 September, 2008 | پاکستان کراچی میں جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ15 September, 2008 | پاکستان زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے23 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||