کراچی میں جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے ہسپتالوں میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران خواتین سے جنسی زیادتی کے ایک سو اکاون واقعات رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ پولیس سرجن کا دعویٰ ہے کہ شہر میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے مگر یہ واقعات رجسٹر نہیں ہوتے۔ کراچی میں عورت فاونڈیشن نامی سماجی تنظیم کے ایک مذاکرے میں شہر میں جسنی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی نشاندہی کی گئی۔ ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے بتایا کہ ان واقعات میں سے صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد متاثرین ہسپتالوں تک آتے ہیں۔ گزشتہ آٹھ میں شہر کے تین بڑے ہسپتالوں سول، جناح اور عباسی شہید ہسپتال میں ایک سو اکاون متاثرین پہنچے ہیں۔ ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے بتایا کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کی اکثریت ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتی ہےاور وہ بدنامی اور دیگر معاملات کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں۔ ان کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کا نظام بہت پیچیدہ ہے اور انصاف نہیں ملتا، الٹا لوگوں سماجی، معاشی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ بارہ برس سے اس شعبے سے وابستہ ڈاکٹر ذوالفقار سیال کا کہنا تھا کہ ان حالات میں لوگ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ ایک تو ان کے ساتھ زیادتی ہو اور کورٹ کچھری میں بھی کوئی شنوائی نہ ہو اس لیئے وہ بہتر سمجھتے ہیں کہ اس کی رپورٹ ہی درج نہیں کرائی جائے۔ اراکین صوبائی اسمبلی رشیدہ پہنور، کلثوم چانڈیو اور فرحین مغل ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر ذوالفقار سیال کے خیالات کی تائید کرتی ہیں۔ ایم پی اے فرحین مغل کا کہنا ہے کہ اخباروں میں شہر میں کچرے کے ڈہیروں گندے نالوں سے نو زائیدہ بچوں کی کبھی زندہ تو کبھی مردہ ملنے کی خبریں آتی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو ا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گنجان اور کچی آبادیوں میں تو ایسے واقعات روزانہ پیش آتے ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں، ان کی بیٹیوں حتیٰ کے چھوٹی بیٹوں سے بھی یہ واقعات پیش آتے ہیں، جیلوں میں قیدیوں کو جنسی تسکین کے لیئے نو عمر قیدی فراہم کیئے جاتے ہیں یہ تمام واقعات ایک سو سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے ذریعے ان واقعات کی روک تھام کی جاسکتی ہے جب تک ملزمان کو سزائیں نہیں ملیں گی ان واقعات میں کمی نہیں ہوگی۔ سندھ میں خواتین کی ترقی کے محکمے کی صوبائی وزیر توقیر فاطمہ بھی اتفاق کرتی ہیں کہ کراچی میں جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد پولیس کے پاس رجسٹرڈ مقدمات سے کہیں زیادہ ہے مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اندرون سندھ ہاری اور مزدور خواتین سے زیادتی کے واقعات تو ان سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ واقعات یہ ثابت نہیں کرتے کہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے تو صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ قانون تو موجود ہیں مگر اس پر ماضی میں عمل نہیں ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی عوامی حکومت آتی ہے وہ صرف دعویٰ نہیں کرتی ہے، بلکہ عملی اقدامات لیتی ہے، انہوں نے ان الزامات کو رد کیا کہ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد جب بھی کوئی متاثر آیا ہے اس کی ایف آئی آر درج ہوئی اور ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ عورت فاونڈیشن کی جانب سے حکومت کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ جنسی زیادتی کا شکار خواتین کی مدد کے لیئے بڑے ہسپتالوں میں خصوصی سیل قائم کیا جائے جہاں ان کو طبی معائنے کے ساتھ ایف آئی آر بھی درج کی جائے اور پولیس اہلکاروں کی تربیت کا بندوست کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔ | اسی بارے میں لاڑکانہ، جنسی زیادتی کا واقعہ 02 March, 2007 | پاکستان سونیا ناز کیس، پولیس افسران بری13 April, 2007 | پاکستان جنسی تشدد کے بعد دھمکیاں 14 April, 2007 | پاکستان نسیمہ لبانو سے گھر چِھن گیا23 June, 2007 | پاکستان لبانو ریپ کیس کراچی منتقل13 August, 2007 | پاکستان دلہن ریپ کیس میں دو اور گرفتار25 April, 2008 | پاکستان ریپ: رہائش اور پانچ لاکھ کی سفارش16 May, 2008 | پاکستان دلہن کے ہوش بحال نہ ہو سکے21 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||