BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 April, 2007, 09:00 GMT 14:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی تشدد کے بعد دھمکیاں

جنسی زیادتیوں کے خلاف خواتین میں بیداری دیکھی گئی ہے
جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی سیالکوٹ کی ایک لڑکی نازش بھٹی کے اہل خانہ کو ملزمان سے ملنے والی دھمکیوں کے خلاف غیر سرکاری تنظیموں نے خواتین کی ترقی کی وزارت کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں انیس سالہ نازش اور ان کے والد بھی شریک رہے اور شرکاء نے خواتین کے بڑھتے ہوئے خلاف تشدد کے واقعات پر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے خواتین کے امور کی وزیر ثمیرا ملک کے خلاف بھی نعرے لگائے جس کے بعد وزارت کا ایک افسر انہیں مزاکرات کے لیے دفتر لے گیا۔

وزارت کے سیکریٹری نے نازش بھٹی کو وکیل فراہم کرنے اور ان کا مقدمہ لاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن اہل خانہ کو تحفظ دینے یا انہیں اسلام آباد منتقل کرنے کے بارے میں دلاسہ دیا کہ وہ وزارت قانون سے بات کرکے انہیں مطلع کریں گے۔

قبل ازیں مظاہرے کے دوران خواتین کے حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی سرکردہ رہنما فرزانہ باری نے کہا کہ نازش بھٹی اور سونیا ناز کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزمان کی رہائی ناانصافی کی انتہا ہے۔

ثبوت موجود، ملزمان کو سزا نہیں
 نازش کے والد محمد اصغر بھٹی نے بتایا ان کے چالیس سالہ رشتہ دار محمد ریاض اور اس کے ساتھیوں نے نازش کو اغوا کیا اور اُسے شبانہ پٹھانی کے بدکاری کے اڈے پر لے گئے۔ ان کے مطابق سینتیس روز تک ملزمان ان کی بچی پر جنسی تشدد کرتے رہے اور میڈیکل رپورٹ سمیت ثبوتوں کے باوجود بھی ملزمان کو سزا نہیں ہوئی۔
مظاہرے میں شریک خواتین نے ’عورتوں کو تحفظ دو، خواتین پر تشدد بند کرو، اور خواتین کو انصاف دو‘ جیسے نعرے لگائے۔ انہوں نے خواتین کے امور کے بارے میں وزارت سے مطالبہ کیا کہ نازش بھٹی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

برقعہ پوش نازش نے بی بی سی کو بتایا کہ سن دو ہزار پانچ میں کالج جاتے ہوئے انہیں ’غنڈوں‘ نے تھانے کے قریب سے اغوا کیا اور جنسی حوس کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے ایڈیشنل سیشن جج سیالکوٹ کی عدالت سے رہا ہوگئے اور انہوں نے اب وفاقی شرعی عدالت میں اپیل کی ہے۔

نازش کے والد محمد اصغر بھٹی نے بتایا ان کے چالیس سالہ رشتہ دار محمد ریاض اور اس کے ساتھیوں نے نازش کو اغوا کیا اور اُسے شبانہ پٹھانی کے بدکاری کے اڈے پر لے گئے۔ ان کے مطابق سینتیس روز تک ملزمان ان کی بچی پر جنسی تشدد کرتے رہے اور میڈیکل رپورٹ سمیت ثبوتوں کے باوجود بھی ملزمان کو سزا نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جب نازش کو ملزمان نے چھوڑا تو پولیس نے پکڑ لیا اور ایک سب انسپیکٹر خالد محمد بھٹی اور ایک سپاہی نے انہیں اپنے پاس رکھا اور رات بھر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

محمد اصغر نے بتایا کہ چالیس سالہ ملزم محمد ریاض بھٹی کی پہلے ہی دو بیویاں ہیں اور انہوں نے نازش کا رشتہ مانگا جس پر انہوں نے انکار کیا۔ ان کے مطابق رشتہ دینے سے انکار کے بعد ملزم نے ان کی بیٹی کو اغوا کرکے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم امریکہ سے آیا ہے اور اس کے پاس کافی دولت ہے اور پولیس بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق شرعی عدالت میں اپیل داخل کرنے کے بعد ملزمان مقدمہ واپس لینے کے لیے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
مختار مائی حکومت اور مائی
’یہ ایک اچھی تبدیلی ہے‘
پولیس پر مقدمہ
تھانے میں ملزم بہنوں کی اجتماعی آبروریزی
نسیمہ کراچی میں
نسیمہ لبانو خاندان سمیت کراچی منتقل
نسیمہ لبانو اوباڑو چھوڑا مگر۔۔
نسیمہ لبانو کراچی میں بھی مسائل سے دوچار ہے
متاثرہ خاتوناجتماعی زنا بالجبر
اقلیتی برادری کی خواتین سے جنسی زیادتی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد