نسیمہ کی مشکلات کم نہ ہوئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوباڑو میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی نسیمہ لبانو کا خاندان کراچی میں مسائل کا شکار ہوگیا ہے۔ پندرہ سالہ نسیمہ اور ان کے خاندان کو سندھ کے گورنر کے حکم پر سکھر کے ایک نجی ہسپتال سے کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ سول ہپستال میں زیر علاج رہیں۔ ان دنوں نیسمہ اور ان کے گھر کے دوسرے افراد کراچی پولیس لائین کے ایک کوارٹر میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں حفاظتی انتظامات کے پیش نظر ٹھہرایا گیا ہے۔ پولیس لائین کے دو کمروں پر مشتمل اس فلیٹ میں نہ تو پنکھے ہیں نے ہی کھانا پکانے کے لئے گیس کا کنیکشن ہے۔ فلیٹ میں نسیمہ کے ساتھ ان کی والدہ، والد، چھوٹا بھائی اور ماموں بھی رہتے ہیں۔ نسیمہ کے ماموں جمال الدین لبانو نے بتایا کہ انہیں فلیٹ میں تین چارپائیاں، کچھ کرسیاں اور بستر فراہم کیے گئے ہیں جبکہ کھانا وہ باہر سے لاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب انہوں نے بجلی والا ہیٹر لگایا ہے تاکہ چائے تو بنا سکیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں وہ دو وقت کھانے کے لیے بھی پریشان ہیں کیونکہ وہ سب کام کاج چھوڑ کر یہاں پناہ لے کر بیٹھے ہیں۔
جمال الدین لبانو کے مطابق انہیں یہاں لانے والی حکومت اور این جی اوز نے بھی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ دوسری جانب نسیمہ لبانو، جو کافی کمزور ہوگئی ہیں، کا کہنا تھا کہ ان کو رات کو نیند نہیں آتی، سارا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور وہ چلانے لگتی ہیں۔ جمال الدین کے مطابق نسیمہ ڈپریشن کا شکار ہے اور رات کو نیند میں ڈرتی ہے وہ اس کی ہمت بڑھاتے ہیں مگر کبھی کبھی وہ خود بھی ہمت ہارنے لگتے ہیں۔ نسیمہ لبانو کا کہنا ہے کہ وہ اب اس گاؤں نہیں جائیں گی جہاں انہیں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور یہ کہ اب وہ کراچی میں ہی رہیں گی۔ جنوری کے آخری ہفتے میں ہونے والے اس واقعے کے سلسلے میں اوباڑو پولیس گیارہ میں سے اب تک صرف چھ ملزمان کو گرفتار کرسکی ہے۔ نسیمہ کے مطابق انہیں رشتہ داروں نے گاؤں سے بتایا کہ کچھ لوگ ان کی تلاش میں کراچی روانہ ہوئے ہیں یہ سن کر تو انہیں اور بھی خوف محسوس ہونے لگا ہے۔ پولیس لائین کے جس فلیٹ میں نسیمہ رہتی ہیں اس کے باہر ڈیوٹی پر صرف ایک باوردی سپاہی تعینات ہے۔ |
اسی بارے میں نسیمہ اوراہلِخانہ کراچی منتقل 14 February, 2007 | پاکستان ’تصفیے کے لیے نسیمہ پر دباؤ‘09 February, 2007 | پاکستان ’میں تو زندہ ہی مر گئی‘: نسیمہ لبانو01 February, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||