BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 June, 2007, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسیمہ لبانو سے گھر چِھن گیا

نسیمہ لبانو
پولیس نے صرف تین ملزم گرفتار کئے ہیں چار ملزم مفرور ہیں
اوباڑو میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی نسیمہ لبانو سے سرکاری گھر خالی کرایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ کہ پولیس لائینز پولیس اہلکاروں کی سرکاری رہائش گاہ ہے اور نسیمہ لبانو پولیس میں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جگہ عارضی بنیادوں پر انہیں پندرہ دن کے لئے دی گئی تھی اور اب چار ماہ ہوگئے ہیں۔ نسیمہ لبانو اور ان کے گھر والوں کو مکان خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا مگر وہ نہ مانے اس لیے سنیچر کو پولیس نے مکان خالی کروا لیا ہے۔

سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کے حکم پر فروری میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی پندرہ سالہ نسیمہ لبانو کو خاندان سمیت تیرہ فروری کو کراچی منتقل کیا گیا تھا اور انہیں پولیس لائینز میں سرکاری رہائش گاہ فراہم کی گئی تھی۔

 نسیمہ کا کہنا تھا کے ان سے زیادتی کرنے والے سات افراد میں سے پولیس نے صرف تین ملزم گرفتار کیے ہیں، چار ملزم مفرور ہیں اور جو ملزم گرفتار ہیں وہ دھمکیاں بھیج رہے ہیں۔

نسیمہ لبانو بتاتی ہیں کہ وہ اور انکے گھر والے ظالموں کے خوف کی وجہ سے کراچی آئے تھے اور اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ ’نسیمہ کراچی آئے حکومت اس کا خرچہ اٹھائی گی، اس کی تعلیم اور علاج کا بندوبست کرے گی مگر اب حکومت کیوں تعاون نہیں کرتی؟‘

دو کمروں کے فلیٹ میں نسیمہ اپنے والد، والدہ اور بہن بھائیوں سمیت رہ رہی تھیں، ان کا سوال تھا کہ انہیں معلوم نہیں وہ دس افراد اب بے گھر ہونے کے بعد کہاں جائیں۔

نسیمہ کے والد حمزہ لبانو کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس حکام نے یہ کہہ کر گھر خالی کروایا ہے کہ آپ یہاں نہیں رہے سکتے۔

نسیمہ لبانو سے زیادتی کے بعد انسانی اور حقوق نسواں کی تنظیموں نے بھی سخت احتجاج کیا تھا۔ تنظیموں نے ان کے خاندان کی کیا مدد کی، اس بارے میں حمزہ لبانو بتاتے ہیں کہ این جی اوز نے انہیں صرف گھر کا راشن فراہم کیا تھا مزید کوئی مدد نہیں کی گئی۔

فلیٹ میں نسیمہ اپنے والد، والدہ اور بہن بھائیوں سمیت رہ رہی تھیں

نسیمہ کا کہنا تھا کے ان سے زیادتی کرنے والے سات افراد میں سے پولیس نے صرف تین ملزم گرفتار کیے ہیں، چار ملزم مفرور ہیں اور جو ملزم گرفتار ہیں وہ دھمکیاں بھیج رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آخر ان سے کیوں انصاف نہیں کیا جاتا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غریب ہیں؟ نسیمہ کے بقول انہیں کہا جا رہا ہے کہ واپس جا کر آپس میں صلح کریں مگر ان کا کہنا تھا کہ ہم ملزمان سے کبھی صلح نہیں کریں گے۔

نسیمہ لبانو واقعے کے بعد ابھی تک خوف میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ملزم مفرور ہیں وہ ان سے ڈرتی ہیں اس لیے وہ کسی صورت واپس اوباڑو نہیں جائیں گی۔

نسیمہ لبانو’گھر خالی کرو‘
نسیمہ سے سرکاری گھر خالی کرنے کا مطالبہ
نسیمہ لبانو اوباڑو چھوڑا مگر۔۔
نسیمہ لبانو کراچی میں بھی مسائل سے دوچار ہے
نسیمہ کراچی میں
نسیمہ لبانو خاندان سمیت کراچی منتقل
مظلوم عورتاوباڑو میں زیادتی
’میں تو زندہ ہی مار دی گئی‘ نسیمہ لبانو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد