BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 March, 2007, 16:54 GMT 21:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسیمہ سے گھر خالی کرنے کا مطالبہ

نسیمہ لبانو
نسیمہ لبانو کو خاندان سمیت سکھر سے کراچی منتقل کیا گیا اور پولیس لائن میں سرکاری رہائش گاہ فراہم کی گئی تھی
اوباوڑو میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی نسیمہ لبانو کو سرکاری گھر خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے جب کہ نسیمہ لبانو کا کہنا ہے کہ وہ ہرگز واپس نہیں جائیں گی۔

اوباوڑو میں فروری میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی پندرہ سالہ نسیمہ لبانو کو خاندان سمیت سکھر کے ایک نجی ہسپتال سے کراچی منتقل کیا گیا تھا اور انہیں پولیس لائن میں سرکاری رہائش گاہ فراہم کی گئی تھی۔

نسیمہ کے والد حمزہ لبانو کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس حکام نے گھر خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اب ہم کہاں جائیں، ہمارے پاس گھر نہیں ہے، جو تھا اسے بیچ کر فالج کا علاج کروایا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ جس سرکاری گھر میں وہ اس وقت رہتے ہیں اس میں بھی نہ بجلی اور نہ ہی گیس کی سہولت حاصل ہے، گرمی بھی بہت ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کو دانے نکل آئے ہیں۔

نسیمہ لبانو واقعے کے بعد ابھی تک خوف میں مبتلا ہیں اور واپس جانے سے انکار کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جو پانچ لوگ فرار ہیں، ان سے وہ ڈر محسوس کرتی ہیں، ان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ ’ان کے خوف کی وجہ سے اپنا گاؤں چھوڑ کر یہاں آگئے، اب واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے‘۔

انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

حمزہ کبانو
نسیمہ کے والد حمزہ لبانو بتاتے ہیں کہ وہ گورنر سندھ کے کہنے پر کراچی آئے تھے مگر یہاں آنے کے بعد وہ پریشان ہیں

حمزہ لبانو بتاتے ہیں کہ وہ گورنر سندھ کے کہنے پر کراچی آئے تھے مگر یہاں آنے کے بعد وہ پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا یہاں کوئی تعاون نہیں ہورہا، فارغ بیٹھے ہوئے ہیں، نہ کوئی علاج ہے اور نہ کوئی خرچہ ہے۔ ان کا کہنا تھا جب حکومت یہاں لے کر آئی ہے تو اب جگہ اور روزگار فراہم کرے۔

نسیمہ لبانو سے مبینہ زیادتی میں ملوث گیارہ میں سے چھ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا تھا جب کہ پانچ ملزمان ابھی تک روپوش ہیں۔ اس بارے میں حمزہ لبانو بتاتے ہیں ، پولیس ان کو گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ وہ بااثر لوگ ہیں، پولیس کہتی ہے کہ چھاپے مار رہے ہیں۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر آفتاب فاروقی کا کہنا ہے کہ ملزم روپوش ہوگئے ہیں ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ملزمان کا پیچھا کر رہے ہیں اس وقت بھی کسی اور صوبے میں موجود ہیں۔

اجتماعی زیادتی کا یہ کیس میڈیا میں آنے کے بعد حکومت نے اس کا نوٹس لیا تھا، این جی اوز نے بھی مظاہرے کیے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ پس منظر میں جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

نسیمہ لبانو اوباڑو چھوڑا مگر۔۔
نسیمہ لبانو کراچی میں بھی مسائل سے دوچار ہے
نسیمہ کراچی میں
نسیمہ لبانو خاندان سمیت کراچی منتقل
مظلوم عورتاوباڑو میں زیادتی
’میں تو زندہ ہی مار دی گئی‘ نسیمہ لبانو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد