BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 09:00 GMT 14:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریپ: رہائش اور پانچ لاکھ کی سفارش

ملزمان کو ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ پازیٹو آنے پر گرفتار کیا
پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے محمد علی جناح کے مزار پر مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کو رہائش اور پانچ لاکھ رپے دینے کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ مزار کی سکیورٹی کے انتظامات رینجرز کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اراکین سینیٹر محمد علی بروہی کی سربراہی میں جمعہ کی صبح کراچی میں محمد علی جناح کے مزار گئے اور جائے واردارت کا معائنہ کیا اور پولیس افسران کے بیان ریکارڈ کیے۔

زیادتی کا نشانہ بننے والی مسمات کبریٰ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کے ہمراہ بیان رکارڈ کرانے پہنچیں۔ میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ انصاف چاہتی ہیں۔

سینیٹر محمد علی بروہی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں، ہمارا معاشرہ ان واقعات سے گزرنے والے لوگوں کو پسند نہیں کرتا ہے جو غلط ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مزار کی سکیورٹی کے انتظامات رینجرز کے حوالے کیے جا رہے ہیں جس کے لیے فوج کا متعلقہ ادارہ جلد کراچی کا دورہ کرے گا۔

 سینیٹر بروہی کا کہنا تھا کہ زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کو کراچی میں رہائش اور شوہر کو ملازمت فراہم کی جائیگی جبکہ حکومت کو سفارش کی جائے گی کہ ان کو پانچ لاکھ رپے امداد بھی دی جائے۔
سینیٹر بروہی کا کہنا تھا کہ زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کو کراچی میں رہائش اور شوہر کو ملازمت فراہم کی جائیگی جبکہ حکومت کو سفارش کی جائے گی کہ ان کو پانچ لاکھ رپے امداد بھی دی جائے۔

یاد رہے کہ ماہ مارچ میں جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں سے تعلق رکھنے والی نوبہتا دلہن کبریٰ اپنے خاندان کے ساتھ مزار قائد گھومنے آئی تھی کہ اسے مبینہ طور پر تین روز یرغمال بناکر جنسی زیادتی کی گئی۔

اس الزام میں پولیس کے مطابق خادم حسین کو خاتون نے بطور ملزم شناخت کیا تھا جبکہ عارف انصاری اور راجہ محمد عارف کو ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتار تینوں ملزمان نے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے پولیس سے درخواست کی تھی کہ یہ ٹیسٹ کسی اور لیبارٹری سے دوبارہ کرائے جائیں۔

تاہم تفتیشی پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے جو نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھیجے تھے ان کے نتیجے مثبت آنے کے بعد کیس مضبوط ہوچکا ہے اور ملزمان کو سزا دلوانے کے لئے ڈی این اے کا نتیجہ کافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب اگر دوبارہ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے تو ملزمان کے حامی افراد نظر رکھیں گے کہ ٹیسٹ کس لیبارٹری سےکرایا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ٹیسٹ کے نتائج پر اثرانداز ہوں۔

اسی بارے میں
ڈی این اے رپورٹ چیلنج
12 May, 2008 | پاکستان
دلہن کے ہوش بحال نہ ہو سکے
21 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد