BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 04:42 GMT 09:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزارِ قائد پردلہن سے اجتماعی زیادتی

قائدِاعظم کا مزار
پولیس کے مطابق خاتون کا طبی معائنہ کرا لیا گیا ہے اور اس کا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا ہے
کراچی میں پولیس نے قائد اعظم کے مزار کے ایک سیکیورٹی گارڈ کو مزار میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس نے ایک نوبیاہتا دلہن کو کل صبح مزار سے برآمد کیا تھا جسے مزار میں واقع میوزیم کے ایک سٹور میں دو روز تک حبسِ بے جا میں رکھ کر مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

تفتیشی پولیس کے ایس پی نیاز کھوسہ نے منگل کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ خاتون (ر) نے پولیس کو ابتدائی بیان دیا ہے کہ اسے دو افراد نے گن پوائنٹ پر اغواء کیا اور شراب پلانے کے بعد پانچ افراد اسے دو روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

پولیس نے خاتون کے کپڑے، میوزیم کے سٹور سے خاتون کے ٹوٹے ہوئے بال، اور دیگر شواہد محفوظ کر لیے تھے۔

خاتون کی دو ماہ قبل شادی ہوئی تھی اور وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ لودھراں سے لال شہباز قلندر کے مزار کی زیارت کے بعد کراچی سیر کرنے آئی تھی۔ خاتون کے والد بشیر احمد نے سولہ مارچ کو جمشید کوارٹر تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں اُن کا موقف تھا کہ وہ اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے ہمراہ دو بسوں میں پندرہ مارچ کو مزارِ قائد پہنچے جہاں ان کی بیٹی اور داماد فیاض حسین دس سے بارہ دیگر رشتہ دار خواتین کے ساتھ مزار کی عمارت میں موجود میوزیم دیکھنے کے لیے گئے۔ میوزیم کے لیے ٹکٹ لینے میں ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے۔ دیگر خواتین میوزیم کے اندر چلی گئیں لیکن فیاض حسین اور ان کی اہلیہ باہر رہ گئے۔

بشیر احمد بیان میں کہتے ہیں کہ فیاض حسین نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ وہیں رکے اور وہ خود مزار کے باہر کھڑی ہوئی بس میں بیٹھے دیگر رشتے داروں سے پیسے لینے چلا گیا اور جب وہ واپس آیا تو اس کی اہلیہ وہاں موجود نہیں تھی۔

یہ پندرہ مارچ کی رات تقریباً نو بجے کی بات ہے جس کے بعد اسے تلاش کیا اور اگلے روز یعنی سولہ مارچ کو رپورٹ درج کرائی۔ رپورٹ میں میوزیم اور مزار کے عملہ پر شک کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایس پی نیاز کھوسہ نے کہا کہ خاتون کو عمارت ہی سے اغواء کیا گیا اور دو روز وہیں رکھا گیا۔ خاتون کو اغواء کاروں نے سترہ تاریخ کو صبح چار بجے چھوڑا۔ وہ نشے کی حالت میں لڑکھڑاتے قدموں سے مزار کے احاطے سے باہر نکلی جہاں رینجرز نے اس سے پوچھ گچھ کی اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس خاتون کے بارے میں گمشدگی کی رپورٹ درج تھی لہذٰا پولیس نے فوری طور پر خاتون کے والد اور خاوند جو تھانے سے کچھ فاصلے پر واقع امام بارگاہ میں قیام پذیر ہیں، اطلاع دی اور انہوں نے خاتون کو پہچان لیا۔

ایس پی نے بتایا کہ خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا جس کی رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے۔ اس کے بعد منگل کو جب وہ مکمل ہوش میں آئیں تو پولیس نے ان سے ابتدائی بیان لیا ہے۔ خاتون نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ کم از کم دو افراد کی شناخت کر سکتی ہیں۔ تفتیشی پولیس افسر نے کہا کہ مزار پر کام کرنے والے ڈھائی سو افراد اور ستر کے قریب سیکیورٹی گارڈز کو اگلے چند روز میں خاتون کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مزارِ قائد شہر کے وسط میں واقع ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد