ڈی این اے رپورٹ چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں مزارِقائد پر ایک خاتون کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار تینوں ملزمان نے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے پولیس سے درخواست کی ہے کہ یہ ٹیسٹ کسی اور لیبارٹری سے دوبارہ کرائیں جائیں۔ پولیس کے تفتیشی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف چالان اور ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ مقامی عدالت میں پیش کی جاچکی ہے اور اب ملزمان کی جانب سے کی گئی درخواست اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے گی۔ اگر عدالت نے دوبارہ ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق خادم حسین کو خاتون نے بطور ملزم شناخت کیا تھا جبکہ عارف انصاری اور راجہ محمد عارف کو ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ راولپنڈی میں واقع ایک سرکاری لیبارٹری سے کروائے تھے اور ملزمان کے اعتراض کے بعد ڈی این اے کے لئے بھیجے گئے نمونے واپس منگوالئے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ان نمونوں کو کسی دوسری لیبارٹری بھیجا جاسکے۔ اس کیس کے ایک تفتیشی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ قائدِاعظم کے مزار کے احاطے میں پولیس کا داخلہ ممنوع ہے اور وہاں کی سیکیورٹی کا انتظام الگ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داری ہے جس کا سربراہ ایک ریٹائرڈ میجر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پولیس نے جو نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھیجے تھے ان کے نتیجے مثبت آنے کے بعد کیس مضبوط ہوچکا ہے اور ملزمان کو سزا دلوانے کے لئے ڈی این اے کا نتیجہ کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اگر دوبارہ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے تو ملزمان کے حامی افراد نظر رکھیں گے کہ ٹیسٹ کس لیبارٹری سےکرایا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ٹیسٹ کے نتائج پر اثرانداز ہوں۔ | اسی بارے میں دلہن ریپ کیس میں دو اور گرفتار25 April, 2008 | پاکستان دلہن کے ہوش بحال نہ ہو سکے21 March, 2008 | پاکستان مزارِ قائد: محافظ بطورملزم شناخت22 March, 2008 | پاکستان مزارِ قائد پردلہن سے اجتماعی زیادتی20 March, 2008 | پاکستان نکاح پر نکاح، لڑکی دارالامان پہنچ گئی23 January, 2008 | پاکستان مدرسہ: ’محبوس‘ بچے بازیاب21 March, 2007 | پاکستان لاڑکانہ، جنسی زیادتی کا واقعہ 02 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||