BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 March, 2008, 01:42 GMT 06:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلہن کے ہوش بحال نہ ہو سکے

قائدِاعظم کا مزار
پولیس کے مطابق خاتون کا طبی معائنہ کرا لیا گیا ہے اور اس کا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا ہے
کراچی میں مبینہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی نوبیاہتا دلہن جمعرات کو بھی مکمل طور پر ہوش میں نہیں آئی ہے۔

متاثرہ خاتون کو پولیس نے منگل کی صبح بانیِ پاکستان کے مزار سے برآمد کیا تھا جسے مزار میں واقع میوزیم کے ایک سٹور میں دو روز تک حبسِ بے جا میں رکھ کر مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پولیس نے عجائب گھر میں کام کرنے والے عملے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ خاتون کے سامنےگارڈز کو پیش کیا گیا تھا جن میں سے انہوں نے ایک کو شناخت کیا ہے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ ’متاثرہ خاتون کو حبسِ بے جا کے دوران نشہ آور اشیاء کی بہت زیادہ مقدار دی گئی ہوگی لہذٰا وہ اب تک مکمل ہوش و ہواس میں نہیں آئی ہیں۔‘

ان کے بقول خاتون نے ایک گارڈ کو شناخت تو کیا ہے لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتیں کہ یہ گارڈ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ابھی ہم ان کے مکمل ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ شناخت کرنے کے قابل ہوسکیں۔‘

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نیاز کھوسہ نے بتایا کہ ’مزارِ قائد کے احاطے میں پولیس کو داخلہ کی اجازت نہیں ہے اور وہاں کی سیکیورٹی قائدِاعظم اکیڈمی کے تحت ایک ریٹائرڈ میجر کے پاس ہے جن کی نگرانی میں ستر گارڈز کام کرتے ہیں اور ان میں کئی ریٹائرڈ فوجی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون اور ان کی چند رشتہ دار خواتین کو وومن پولیس تھانہ میں پناہ دی گئی ہے۔ اس سے پہلے وہ پرانی نمائش کے قریب تنظیم پاسبانِ عزا کے فراہم کردہ ایک اپارٹمنٹ میں قیام پذیر تھیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی نومنتخب ممبر صوبائی اسمبلی شہلا رضا نے متاثرہ خاتون سے ملاقات کی اور انہیں پارٹی کی جانب سے قانونی مدد کے لئے وکیل کی بھی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گارڈز کی شناختی پریڈ کے وقت وہ بھی تھانہ پہنچی تھیں جہاں متاثرہ خاتون کی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ صحیح طرح سے نہ توچل سکتی تھیں اور نہ ہی وہ کچھ بول پارہی تھیں۔ تووہ اس حالت میں کس طرح سے ملزمان کو شناخت کرسکتی ہیں۔

پاسبانِ عزا کے نیر زیدی نے بتایا کہ جس روز خاتون کی گمشدگی کا یہ واقعہ پیش آیا اس روز رات گئے متاثرہ خاتون کے والد، خاوند اور دیگر رشتہ دار خراسان امام بارگاہ کے قریب آہ وبُکا کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور علاقے کے دیگر لوگ ان افراد کو اگلے روز متعلقہ تھانے لے گئے لیکن پولیس نے پہلے پہل ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا لیکن جب ان پر دباؤ ڈالا گیا تو اغواء کی ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

واضح رہے کہ خاتون کی دو ماہ قبل شادی ہوئی تھی اور وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ لودھراں سے لال شہباز قلندر کے مزار کی زیارت کے بعد کراچی سیر کرنے آئی تھی۔

خاتون کے والد بشیر احمد نے سولہ مارچ کو جمشید کوارٹر تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں اُن کا موقف تھا کہ وہ اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے ہمراہ دو بسوں میں پندرہ مارچ کو مزارِ قائد پہنچے جہاں ان کی بیٹی اور داماد فیاض حسین دس سے بارہ دیگر رشتہ دار خواتین کے ساتھ مزار کی عمارت میں موجود میوزیم دیکھنے کے لیے گئے۔ میوزیم کے لیے ٹکٹ لینے میں ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے۔ دیگر خواتین میوزیم کے اندر چلی گئیں لیکن فیاض حسین اور ان کی اہلیہ باہر رہ گئے۔

بشیر احمد بیان میں کہتے ہیں کہ فیاض حسین نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ وہیں رکے اور وہ خود مزار کے باہر کھڑی ہوئی بس میں بیٹھے دیگر رشتے داروں سے پیسے لینے چلا گیا اور جب وہ واپس آیا تو اس کی اہلیہ وہاں موجود نہیں تھی۔

یہ پندرہ مارچ کی رات تقریباً نو بجے کی بات ہے جس کے بعد اسے تلاش کیا اور اگلے روز یعنی سولہ مارچ کو رپورٹ درج کرائی۔ رپورٹ میں میوزیم اور مزار کے عملہ پر شک کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایس پی نیاز کھوسہ نے کہا کہ خاتون کو عمارت ہی سے اغواء کیا گیا اور دو روز وہیں رکھا گیا۔ خاتون کو اغواء کاروں نے سترہ تاریخ کو صبح چار بجے چھوڑا۔ وہ نشے کی حالت میں لڑکھڑاتے قدموں سے مزار کے احاطے سے باہر نکلی جہاں رینجرز نے اس سے پوچھ گچھ کی اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس خاتون کے بارے میں گمشدگی کی رپورٹ درج تھی لہذٰا پولیس نے فوری طور پر خاتون کے والد اور خاوند جو تھانے سے کچھ فاصلے پر واقع امام بارگاہ میں قیام پذیر ہیں، اطلاع دی اور انہوں نے خاتون کو پہچان لیا۔

واضح رہے کہ مزارِ قائد شہر کے وسط میں واقع ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد