مزارِ قائد: محافظ بطورملزم شناخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں مزارِقائدِاعظم پر مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون نے سنیچر کو مقامی عدالت میں زیرحراست سیکیورٹی گارڈ خادم حسین کو ملزم کی حیثیت سے شناخت کرلیا ہے جس کے بعد عدالت نے ملزم کو پچیس مارچ تک پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ مزارِقائد پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کو پولیس نے جمعرات کو حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا جس کے بعد سنیچر کو انہیں پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت میں پیش کیا جہاں متاثرہ خاتون نے مزارِ قائد کے ایک سیکیورٹی گارڈ خادم حسین کو ملزم کی حیثیت سے شناخت کرلیا۔ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کی تحویل میں دیتے ہوئے عدالت نے کارروائی پچیس مارچ تک ملتوی کردی۔ متاثرہ خاتون کے وکیل ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ملزم کو اگلی سماعت کے موقع پر پیش کیا جائے گا جبکہ عدالت میں متاثرہ خاتون کا بیان بھی آئندہ سماعت پر قلم بند ہوگا۔ پیپلزپارٹی کی نومنتخب ممبر صوبائی اسمبلی شہلا رضا عدالت میں موجود تھیں اور عدالتی سماعت کے بعد وہ متاثرہ خاتون کو سہارا دیتے ہوئے باہر لائیں تو انہیں ہر طرف سے میڈیا کے لوگوں نے گھیر لیا اور ان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ ان تمام سوالوں کے جواب میں متاثرہ خاتون نے صرف ایک جملہ کہا کہ ’مجھے انصاف چاہیے‘۔ اس کیس کے تفتیشی افسر نیاز کھوسہ نے بتایا کہ ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرایا جائے گا جس سے جرم ثابت کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ جس کمرہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہاں سے پولیس نے شواہد محفوظ کرلیے ہیں۔ جس کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں اور ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کا اس سے موازنہ کرایا جائے گا۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان کو پانچ افراد نے زیادتی کی نشانہ بنایا ہے اور انہوں نے اب تک ایک سیکیورٹی گارڈ کو شناخت کیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں اور اس میں ملوث مزید ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب اس کیس کو بنیاد بناکر پیپلزپارٹی کی شہلا رضا نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک غیرسرکاری تنظیم وار یعنی وار اگینسٹ ریپ کی خالدہ احمد متاثرہ خاتون کو ملزمان کی شناختی پریڈ کے بعد مزار سے اپنے ساتھ زبردستی لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن وہ وقت پر پہنچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کی جسمانی حالت بہت خراب تھی اور اسے وہاں لا کر ملزمان کی شناخت کرائی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے خاوند اور دیگر رشتہ دار موجود تھے لیکن وار کی خالدہ احمد متاثرہ خاتون کو ان کے لواحقین کی مرضی کے خلاف لےجانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ خالدہ احمد ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کی تنظیم نے متعدد ایسی مظلوم خواتین کی مدد کی ہے جو ایسے حالات سے گزری ہیں۔ انہوں نے کئی ایسی خواتین کے نام لیتے ہوئے کہا کہ اب ان خواتین کو کوئی بھی نہیں پوچھ رہا لیکن ان کی تنظیم اب بھی ان کی خبر گیری کرتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملزمان کو با اثر افراد کی حمایت حاصل ہے اور شہلا رضا ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس کیس میں حصہ لے رہی ہیں۔ خالدہ احمد نے جو عدالتی کارروائی میں موجود تھیں، بتایا کہ وہ اس کیس کی سماعت پر عدالت آتی رہیں گی اور اگر کسی بھی موقع پر متاثرہ خاتون یا ان کے رشتہ داروں کو ان کی ضرورت پڑے گی تو وہ اپنی خدمات فراہم کریں گی۔ متاثرہ خاتون کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی اور وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ لودھراں سے لال شہباز قلندر کے مزار کی زیارت کے بعد کراچی سیر کرنے آئی تھی۔ | اسی بارے میں مزارِ قائد پردلہن سے اجتماعی زیادتی20 March, 2008 | پاکستان دلہن کے ہوش بحال نہ ہو سکے21 March, 2008 | پاکستان مزارِ قائد پردلہن سے اجتماعی زیادتی18 March, 2008 | پاکستان ’خواتین آج بھی انصاف کی متلاشی‘08 March, 2008 | پاکستان لاڑکانہ، جنسی زیادتی کا واقعہ 02 March, 2007 | پاکستان ’میں تو زندہ ہی مر گئی‘: نسیمہ لبانو01 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی، دو مجرموں کو پھانسی15 May, 2007 | پاکستان لڑکی کی مبینہ بےحرمتی پرمظاہرہ09 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||