BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2008, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اپنوں سے دور عید، یادوں کے ساتھ

عورت
’عید تو ان کی ہوتی ہے جو اپنے خاندانوں میں ہوتے ہیں، جو ان سے دور ہیں یہ ان کے لیے تو عام دن ہی ہوسکتا ہے۔'
’عید تو ان کی ہوتی ہے جو اپنے خاندانوں میں ہوتے ہیں، جو ان سے دور ہیں یہ ان کے لیے تو عام دن ہی ہوسکتا ہے۔‘ یہ پینتیس سالہ زینت کے الفاظ ہیں جو بچوں سے کئی میل دور دارالامان کی چار دیواری میں عید منا رہی ہیں۔

زینت نے شوہر کی مبینہ ظلم اور زیادتیوں سے تنگ آکر گھر اور بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ والدین نے بھی انہیں اپنے گھر میں پناہ دینے سے انکار کیا جس کے بعد وہ کراچی میں بے سہارا خواتین کے گھر ’پناہ‘ میں رہتی ہیں۔

’پناہ‘ شہر میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی کارکنوں نے بنایا ہے جس میں عدالت کی جانب سے بھیجی گئیں خواتین کے علاوہ بے سہارا خواتین بھی آکر رہتی ہیں۔

زینت نے اپنی یاد کے صفحات کو پلٹتے ہوئے بتایا کہ ہر عید کا دن ان کے لیے انتہائی مصروفیت کا دن رہتا تھا۔ بچوں کو تیار کرنا، ان کے لیےسارا دن مختلف کھانے بنانا ان کی مصروفیت میں شامل تھا۔

ان کے تین بچے ہیں جنہیں وہ ہر وقت یاد کرتی ہیں اور ان کی کمی محسوس کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان اپنی اولاد کو کبھی نہیں بھلا سکتا چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے۔

’پناہ‘ میں رہتے ہوئے بھی زینت نے کچھ پیسے جوڑے ہیں جن سے کپڑے اور تحائف خرید کر بچوں کے لیے بھیجے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے شوہر بچوں کو ان سے ملنے آنے کی اجازت نہیں دیں گے مگر بعد میں ٹیلیفون پر بات کرلیں گے۔

’پناہ‘ کی ڈائریکٹر عظمٰی نورانی بتاتی ہیں کہ عید پر ان خواتین کے لیے نئےجوڑوں کا انتظام کیا جارہا ہے، انہیں چوڑیاں اور مہندی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ’یہ کوشش کی جاتی ہے انہیں گھر جیسا ماحول محسوس ہو۔‘

 پہلے چاند رات پر چوڑیاں پہنانے کے لیے ان خواتین کو بازار لے جایا جاتا تھا مگر حالات کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ عید کے دن کوئی بھی ان سے ملنے کے لیے آجائے۔ کمیونٹی کو احساس ہو کہ ایسی بھی خواتین ہیں جو گھروں سے دور بیٹھی ہیں
پناہ ڈائریکٹر

’پہلے چاند رات پر چوڑیاں پہنانے کے لیے ان خواتین کو بازار لے جایا جاتا تھا مگر حالات کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ عید کے دن کوئی بھی ان سے ملنے کے لیے آ جائے۔ کمیونٹی کو احساس ہو کہ ایسی بھی خواتین ہیں جو گھروں سے دور بیٹھی ہیں۔‘

ان خواتین میں اٹھائیس سالہ گلناز بھی شامل ہیں جو چار سال قبل اپنے اہل خانہ سے ناراض ہوکر حیدرآباد چلی گئیں تھیں جہاں سے انہیں اغوا کرلیا گیا۔ وہ ان لوگوں کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب تو ہوگئی مگر گھر والوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ وہ پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کی خواہش مند تھیں مگر والد کا زور تھا کہ ان کی شادی کرائی جائے اور اس وجہ سے گھر چھوڑ کر بہن کے پاس چلی گئیں۔ بہن سے کسی چھوٹی بات پر لڑنے کے بعد انہوں نے وہ گھر بھی چھوڑ دیا جس کے بعد سے لیکر وہ ٹھوکریں کھا رہی ہیں۔ گلناز کے مطابق جو لڑکی گھر سے چار سال باہر رہی ہو اسے اب گھر والے کیسے قبول کرسکتے ہیں۔

 پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کی خواہش مند تھی مگر والد کا زور تھا کہ ان کی شادی کرائی جائے اور اس وجہ سے گھر چھوڑ کر بہن کے پاس چلی گئی۔ بہن سے کسی چھوٹی بات پر لڑنے کے بعد وہ گھر بھی چھوڑ دیا جس کے بعد سے لیکر ٹھوکریں کھا رہی ہوں
گلناز

ان کا کہنا ہے کہ خواہش ہے کے ’پناہ‘ والے ان کی شادی کا بندوست کر دیں تاکہ وہ اپنا گھر بسائیں۔ اس کے علاوہ ان کو عید یا کوئی اور خوشی نہیں رہی ہے۔

تیس سالہ سکینہ کی شادی نو عمری میں ہی کرادی گئی تھی اور انہیں یہ بھی یاد نہیں ہے کہ ان کی عمر کیا تھی۔ ان کے ہوش سنبھالتے ہی ان کا شوہر اور ان کی ماں اور بھائی سارا دن مار پیٹ کرتے رہتے اور کہتے کہ کام نہیں کرتی ہو۔ جس وجہ سے انہوں نے تنگ آکر گھر چھوڑ دیا۔

سکینہ کو اولاد نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ والدین اور نہ ہی سسرال والوں کے پاس جانا چاہتی ہیں وہ دارالامان میں ہی رہنا چاہتی ہیں اور طلاق لیکر دوسری شادی کریں گی۔

پندرہ سالہ نورین کراچی میں ایک بنگلے میں صفائی کا کام کرتی تھیں جہاں کی مالکن نے ان پر چوری کا الزام عائد کیا تھا۔ انہیں دو روز تک تھانے میں بھی رکھا گیا جس کے بعد وہ ’پناہ‘ آگئیں۔

وہ والدین کے پاس جانا نہیں چاہتیں جبکہ انہیں یاد ہے گزشتہ عید پر بھی انہوں نے نئے کپڑے بنائے تھے اور گھر والوں کے ساتھ گھومنے پھرنے گئیں تھیں۔ مگر اب وہ کہتی ہیں یہ عید یہاں پر جیسے منائی جائے گی وہ بھی ویسے ہی منالیں گی۔

کراچی کے علاوہ حیدرآباد اور سکھر کے دارالامانوں میں بھی ایسی کئی خواتین ہیں جن کا اپنے بچوں اور والدین سے دور چار دیواری میں عید کا دن گزر جائے گا۔

فرزانہ کو ’پناہ‘ میں ایک ماہ ہونے والا ہے۔ وہ بھی شوہر کی ظلم و ستم سے تنگ آکر گھر چھوڑ آئی ہیں۔ ان کے مطابق ان کا شوہر نشہ کرتا جس کے بعد مار پیٹ کرتا اور زبردستی بھی کرتا تھا۔ وہ تین بچوں کو بھی چھوڑ آئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عید کا دن بچوں کے بغیر عجیب تو لگے گا مگر ساری زندگی تو ایسے نہیں گزرتی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے طلاق لیں گی جس کے بعد بچوں کے بارے میں سوچیں گی۔

غیرت کے نام پر قتل کے خلاف احتجاج(فائل فوٹو)ایک اور لڑکی قتل
غیرت کے نام پر ایک اور لڑکی کو قتل کر دیا گیا
خاتون کا خاکہ(فائل فوٹو)’غیرت کے نام پر قتل‘
’جعفر آباد میں 3 لڑکیاں ہلاک کردی گئیں‘
آدھی گواہی
بینکوں کوعورتوں کی گواہی قبول نہیں
عالمی یوم خواتین
’آج بھی مکمل انصاف کی متلاشی ہیں‘
گھریلو تشدد گھریلو تشدد برقرار
’پاکستان میں سینکڑوں خواتین تشدد کا شکار‘
مقتول کے ساتھ خطجسم فروشی کا الزام
بنوں میں دو خواتین گلا کاٹ کر مار دی گئیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد