غیرت کے نام پر ایک اور قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالائی سندھ کے علاقے پنو عاقل میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر اسکے چچا نے کاری قرار دیکر قتل کردیا۔ یہ واقعہ پنو عاقل کے تھانہ مبارکپور کی حدود میں واقع گوٹھ مہر میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ملزم حاجی محمد حسین نے اپنی بائیس سالہ بھتیجی گل خاتون کو چاول کے کھیت میں کلہاڑیوں کے پے در پے وار کرکے قتل کیا اور بعد میں فرار ہوگیا۔ مقتولہ کے والد محمد بخش نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کاری تھی کیونکہ ’اسکے ان کے ایک قریبی عزیز جاڑو کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اس لئے اسکے قتل پر کوئی پچھتاوا نہیں۔‘ اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد جاڑو اور اسکے اہل خانہ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ دریں اثناء سندھ کے علاقے محرابپور میں عدالت نے ایک عورت کو دارالامان بھیج دیا ہے جسے اسکے دعوے کے مطابق رشتے داروں نے پیسے لیکر ایک بوڑھے شخص کو فروخت کردیا تھا۔ شبیراں شر کو محرابپور پولیس نے مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً چودہ مہینے پہلے ان کے شوہر مور شر کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد ان کے چچا مینو شر نے ستر ہزار روپے کے عوض میرپور ماتھیلو کے رہائشی غلام نبی سے زبردستی شادی کرادی۔ شبیراں کے مطابق غلام نبی پہلے سے شادی شدہ اور ضعیف العمر ہے اور اسکے پہلے سے بارہ بچے ہیں اور وہ ان پر تشدد کرتا تھا جس کی وجہ سے موقع ملتے ہی وہ فرار ہوکر تحفظ کی خاطر تھانے پہنچ گئی۔ خاتون کے مطابق اسکے شوہر کے قتل کے مقدمے پر ہونے والا تمام خرچہ ان کے چچا نے دیا تھا اور اس رقم کی واپسی کے لئے اسکی زبردستی شادی کرائی۔ شبیراں نے درخواست کی کہ اسکا والد بہت غریب ہے اور اسے واپس اسکے رشتے داروں کے حوالے نہ کیا جائے کیونکہ وہ اسے قتل کردیں گے۔ عدالت نے شبیراں کو دارالامان بھیج دیا۔ | اسی بارے میں کاروکاری:باپ کے ہاتھوں بیٹی کا قتل25 September, 2008 | پاکستان زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے23 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد، ’دو نے اقبال جرم کر لیا‘22 September, 2008 | پاکستان ’صرف دو عورتیں قتل ہوئی تھیں‘18 September, 2008 | پاکستان مقتول خواتین کی تفتیش اور احتجاج18 September, 2008 | پاکستان ’گند اچھالنے سے بدبو ہی آئے گی‘13 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘12 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||