کاروکاری:باپ کے ہاتھوں بیٹی کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے ساحلی ضلع ٹھٹھہ میں ایک باپ نے اپنی پندرہ سالہ بیٹی کو کارو کاری کے شبہ میں پتھر مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ ٹھٹھہ پولیس کےمطابق پھلوں کا کاروبار کرنے والے اسلم قریشی نے سحری کے بعد اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو بار بار پتھر مار کر ہلاک کر دیا۔ قتل کے بعد اسلم نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے ۔اسلم قریشی نے مقامی پولیس کو بتایا ہے کہ ان کی بیٹی کے ایک پڑوسی نوجوان سے ناجائز تعلقات تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے بیٹی کو ہلاک کیا ہے۔ پولیس نے پندرہ سالہ لڑکی زینت کی لاش مقامی ہسپتال پہنچا دی ہے اور زیر الزام بیس سالہ نوجوان پپو کو بھی حراست میں لے لیا ہے تاہم اس کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ میں کاروکاری الزام کے تحت ایک ہفتے کے اندر باپ کےہاتھوں بیٹی کے قتل کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ دو دن قبل جیکب آباد ضلع کی تحصیل ٹھل میں محمد خان بنگلانی نامی شخص نے اپنی دس سالہ بیٹی حنیفاں خاتون کو گلے میں پھندا ڈال کر ہلاک کر دیا تھا۔
ٹھل پولیس کےایک افسر سکندر سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں لال خان پھوڑ کے رہائشی اور حنیفاں خاتون کے بھائی عرض محمد کی درخواست پر ملزم کوگرفتار کر لیا ہے۔ عورتوں کےحقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم وومن ایکشن فورم کی رہنماء امر سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارو کاری الزام کےتحت جب عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے تو اکثر ان کا پورا خاندان اس قتل کی سازش میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہوتا ہے اس لیے ان مقتول عورتوں کےمقدمے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عورتوں کے قتل کو ریاست کے خلاف جرم سمجھا جائے تب ہی کاروکاری کے نتیجے میں ہونے والے قتل میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے23 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد، ’دو نے اقبال جرم کر لیا‘22 September, 2008 | پاکستان ’صرف دو عورتیں قتل ہوئی تھیں‘18 September, 2008 | پاکستان مقتول خواتین کی تفتیش اور احتجاج18 September, 2008 | پاکستان ’گند اچھالنے سے بدبو ہی آئے گی‘13 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘12 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||