’ایک ہزار خواتین تشدد کا شکار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس سال اگست تک ایک ہزار سے زائد خواتین کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سن دو ہزار سے اب تک یہ تعداد ساڑھے چار ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جن میں سے سوا دو ہزار سے زائد خواتین کو گھریلو تنازعات میں قتل کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار بے سہارا خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’مددگار‘ نے ایک رپورٹ کی صورت میں جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار سے اس سال اگست تک تین ہزار تین سو تینتیس شادی شدہ خواتین جبکہ ایک ہزار پندرہ غیر شادی شدہ خواتین کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو تشدد کے واقعات میں کوئی اور نہیں بلکہ شادی شدہ خواتین کے شوہر، سُسر، ساس، دیور، اور نندیں ذمہ دار ہوتی ہیں جبکہ غیرشادی شدہ خواتین پر تشدد میں ان کے اپنے والدین یا بہن بھائی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان واقعات کے رونما ہونے کی وجوہات میں زیادہ تر جائیداد اور وراثت کے معاملات، گھریلو تنازعات، جبری شادی، غربت، غلط فہمی، خاوند کا احساسِ محرومی، اور شک گردانے گئے ہیں۔
گھریلو تشدد کے واقعات میں ایک ہزار سات سو تریسٹھ خواتین کو جلا کر مارا گیا، چھ سو اٹھارہ خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں سے دو سو اکاون کا گلا گھونٹا گیا اور ایک سو سینتالیس کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا۔ ان کے علاوہ دو سو سینتالیس خواتین کو مارا پیٹا گیا، دو سو چودہ پر تیزاب چھڑک کر زخمی کیا گیا، ایک سو دو پر جنسی تشدد کیا گیا اور ایک سو چھیاسی خواتین کے مختلف جسمانی اعضاء کو کاٹ دیا گیا۔ ملک میں سن دو ہزار سے اس سال اگست تک کُل چار ہزار پانچ سو اڑتالیس خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک سو سات کو سن دو ہزار میں، ایک سو چورانوے کو سن دوہزار ایک میں، چھ سو پینسٹھ کو سن دوہزار دو میں، چھ سو پچہتر کو سن دو ہزار تین میں، چھ سو نواسی کو سن دو ہزار چار میں، سات سو انیس کو سن دو ہزار پانچ میں، چارسوچون کو سن دوہزار چھ میں جبکہ ایک ہزار پینتالیس خواتین کو اس سال جنوری سے اگست تک گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گھریلو تشدد کے واقعات میں صوبہ پنجاب دو ہزار تین سو بیس واقعات کے ساتھ سرِفہرست رہا جبکہ صوبہ سندھ میں پندرہ سو پانچ، صوبہ سرحد میں پانچ سو چون، اور صوبہ بلوچستان میں ایک سو انہتر واقعات رپورٹ کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات معاشرتی دباؤ کی وجہ سے زیادہ تر رپورٹ نہیں کیے جاتے ہیں۔ یہ تعداد ان واقعات کی ہے جو منظرِعام پر آئے اور اصل تعداد ان واقعات سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار کی رُو سے گھریلو تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ا سباب میں آگہی کا فقدان اور پولیس کا ایسے کیسز پر توجہ نہ دینا شامل ہیں، جبکہ حکومت ایسے واقعات کی روک تھام میں تقریباً ناکام ہوچکی ہے۔ گھریلو تشدد کے واقعات میں نہ صرف خواتین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں بلکہ باالواسطہ بچے بھی شدید متاثر ہوتے ہیں جن پر منفی نفسیاتی اثرات ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں خواتین کو تحفظ اس وقت تک یقینی نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ پولیس، عدلیہ اور معاشرہ میں خواتین کے حقوق کے بارے میں شعور پیدا نہیں کیا جاتا۔ |
اسی بارے میں حکومتی دعوے، NGOs اور ڈرامے08 March, 2007 | پاکستان سونیا ناز کیس، پولیس افسران بری13 April, 2007 | پاکستان جنسی تشدد کے بعد دھمکیاں 14 April, 2007 | پاکستان مختار مائی حکومتی رویے پر مستعفی26 May, 2007 | پاکستان پردے کی بنا پرعدم امتیاز کا بل27 June, 2007 | پاکستان خواتین کے تحفظ کے لیے نئے بِل28 June, 2007 | پاکستان ’حقوقِ انسانی کی تنظیمیں مدد کریں‘01 August, 2007 | پاکستان دو خواتین گلا کاٹ کر مار دی گئیں07 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||