BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 21:36 GMT 02:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حقوقِ انسانی کی تنظیمیں مدد کریں‘

مظاہرہ
’اگر بلوچ سیاسی کارکنوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے‘
بلوچ خواتین پینل نے کہا ہے کہ لاپتہ سینکڑوں بلوچ نوجوانوں کو منظرعام پر لانے کے لیے انسانی حقوق کے عالمی تنظیمیں پاکستان پر دباؤ ڈالیں ورنہ بلوچ خواتین تادم مرگ بھوک ہڑتال پر مجبور ہو جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

یہ بات بلوچ خواتین پینل کے ارکان نے کوئٹہ میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران کہی جس میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچوں نے حصہ لیا۔

مظاہرے کے دوران حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور تمام لاپتہ بلوچ سیاسی اسیران کو فوری طور پر منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیاگیا۔ مظاہرین نے بینر، پلے کارڈ اور گمشدہ افراد کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں۔

مظاہر ے سے خطاب کرتے ہوئے مہر جان بلوچ، شکر بلوچ ایڈووکیٹ اور مہر بلوچ نے کہا کہ پاکستان سے الحاق کے بعد سے بلوچ قوم کو ہمیشہ استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے اور بلوچ سرزمین کے وسائل لوٹنے کے لیے یہاں پانچ بار فوجی آپریشن کیا گیا، ہزاروں بےگناہ بلوچوں کا قتل عام کیا گیا اور اب تک سات ہزار سے زائد بلوچ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بغیر کسی جواز کے اغواء کیا ہے اور ان کے لواحقین کو بھی نہیں بتایا جا رہا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔

مظاہرے کے دوران حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی

مقررین نے کہا کہ اگر بلوچ سیاسی کارکنوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے اور خفیہ اداروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ بےگناہ و معصوم لوگوں کو غائب کر دیں یا انہیں عقوبت خانوں میں اذیت کا نشانہ بنائیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تمام بلوچ سیاسی اسیروں کو رہا اور لاپتہ افراد کو منظرعام پر نہ لایاگیا تو بلوچ خواتین پینل تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر دے گا اور اس کے علاوہ احتجاج کا شدید راستہ اپنانے پر مجبور ہوگا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بلوچ پارلیمنٹرین کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں مایوس کن قرار دیا ۔

خواتین مقررین نے کہا کہ’جس طرح سے یہ ریاست بلوچوں کے ساتھ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اس سے خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ اس لیے ہم مہذب ممالک، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس قدر انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ایکشن لیں اور پاکستانی حکام پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلوچوں کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک بند کریں اور ان افراد کو منظر عام پر لائیں‘۔

اسی بارے میں
لاپتہ صحافی کی گھر واپسی
21 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد