انگاروں پر چل کر معصومیت ثابت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے سابق گورنر اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی کی ہدایت پر بلوچستان کے شہر جعفرآباد میں ایک شخص کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کے لیے انگاروں پر گزارا گیا۔ جعفرآباد میں منعقد ہونے والے جرگہ کے سربراہ مرید بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ انگاروں پر چلنے والے شخص کے جرم یا معصومیت کا فیصلہ سوموار کے روز اس کے پاؤں کا معائنہ کرنے کے بعد سنایا جائے گا۔ بلوچستان ریپبلیکن پارٹی کے رہنما مرید بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ چاکر قبیلے نے گل خان بگٹی پر الزام ہے کہ اس کے ایک شادی شدہ عورت سے ناجائز تعلقات ہیں۔ مرید بگٹی نے بتایا کہ نوابزادہ براہمدغ بگٹی کے کہنے پر اتوار کے روز اس شخص کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں انگاروں پر سے گزارا گیا ہے۔ مرید بگٹی کے مطابق بدکاری کا الزام ثابت کرنے کے لیے گیارہ فٹ لمبا اور دو فٹ چوڑا گڑھا بنایا گیا تھا جس میں دس من لکڑی کو جلایا گیا اور جب انگارے بن گئے تو قران پاک کے سائے میں ملزم کو یہ کہہ کر گزارا گیا کہ اگر الزام صحیح ہے تو ثابت ہوجائے اور اگر غلط ہے تو آگ ملزم کو کچھ نہیں کہے گی۔ انھوں نے کہا کہ سوموار کی صبح وہ گل خان بگٹی کے پیروں کا معائنہ کرنے کے بعد اپنا فیصلہ سنائیں گے ۔ بلوچستان میں اکثر معاملات قبائلی بنیادوں پر نمٹائے جاتے ہیں اور یہ جرگہ بھی اس قبائلی نظام کی ہی ایک کڑی ہے۔ مرید بگٹی کے مطابق انھوں نے اب تک آگ پر گزارنے کے کوئی پینتالیس جرگے منعقد کیے ہیں جن میں سے چونتیس نواب اکبر بگٹی کے دور میں اور گیارہ اب براہمدغ بگٹی کی رہنمائی میں فیصلے سنائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان فیصلوں میں سے چھ مجرم قرار پائے ہیں جبکہ انتالیس افراد بے گناہ ثابت ہوئے ہیں اور ان فیصلوں کے بعد مجرمان کو قبائلی روایات کے مطابق سزا دی گئی ہے اور بےگناہ ثابت ہونے والے افراد کو مدعی کے ساتھ گلے ملا کر شکوے دور کرائے گئے ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ موجودہ دور میں بھی اس طرح کے فیصلے کون تسلیم کرتا ہے تو انھوں نے کہا کہ بلوچ قبائلیوں کا اس امتحان اور طریقے پر مکمل اعتماد اور یقین ہے اور یہ فیصلے ان قبائلیوں کے اعتماد کی روشنی میں کیے جاتے ہیں اس لیے کبھی اس میں غلطی نہیں ہوئی ہے۔ مرید بگٹی نے کہا کہ صرف چوبیس گھنٹے میں اتنے بڑے بڑے واقعات کے فیصلے سنا دیے جاتے ہیں ۔ کچھ ماہ پہلے نصیر آباد میں پانچ خواتین کو مبینہ بدکاری کے الزام میں زندہ درگور کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں بلوچستان:دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد01 September, 2008 | پاکستان عورتوں کا قتل، نصیر آباد میں خاموشی09 September, 2008 | پاکستان ’گند اچھالنے سے بدبو ہی آئے گی‘13 September, 2008 | پاکستان ’صرف دو عورتیں قتل ہوئی تھیں‘18 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد، ’دو نے اقبال جرم کر لیا‘22 September, 2008 | پاکستان زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے23 September, 2008 | پاکستان چھ ماہ میں دو سو پچیس عورتیں قتل26 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||