تین ماہ، خواتین پر تشدد، 220 واقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں صرف تین ماہ میں خواتین پر تشدد کے دو سو بیس واقعات سامنے آئے ہیں جن میں سے چھپن خواتین قتل ہوئی ہیں اور چار نے خود کشی کی ہے۔ یہ رپورٹ کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں جاری کی گئی۔ ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن نے اپنی سہہ ماہی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عورتوں پر تشدد کے واقعات تو پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں لیکن اب یہ واقعات منظر عام پر آنا شروع ہوئے ہیں۔ تنظیم کے عہدیدار ہارون داؤد نے بتایا ہے کہ اب بھی کئی ایسے واقعات ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر منظر عام پر نہیں آسکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین ماہ میں دو سو بیس واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں سے ستاسی عورتوں پر جسمانی تشدد کیا گیا ہے۔ خواتین کے حوالے سے تشدد کے واقعات میں چھپن خواتین اور گیارہ مرد ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان چھپن خواتین میں سے اڑتیس خواتین کو ’سیاہ کاری‘ کے الزام میں قتل کیا گیا ہے، چار عورتوں نے گھریلو حالات کی وجہ سے خود کشی کی ہے، ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، تیرہ خواتین پر گھریلو تشدد ہوا اور سترہ خواتین اغوا ہوئیں۔ رپورٹ میں مختلف واقعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں پانچ خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا مشہور واقعہ شامل ہے۔ اس رپورٹ میں اس واقعہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جولائی کے مہینے میں عمرانی قبیلے کی خواتین اپنی مرضی سے جمالی قبیلے نوجوانوں سے شادی کرنا چاہتی تھیں لیکن عمرانی قبیلے کے رہنماوں کو جب اس کا علم ہوا کہ ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی خواتین اوستہ محمد کے ایک ہوٹل میں موجود ہیں تو انھیں گھسیٹ کر گاڑیوں میں لایا گیا اور پھر ایک جرگے میں انھیں قتل کرنے کا فیصلہ سنایا گیا۔ اس رپورٹ میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے کہ ان خواتین کو زندہ درگور کیا گیا لیکن یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ ان خواتین کو باقاعدہ دفن کرنے کی بجائے دو فٹ کے گڑھے میں ڈالا گیا تھا جہاں ان کے جسم کو جانوروں نے نوچ لیا تھا اور پھر دوسری مرتبہ گڑھا گہرا کرکے اس میں ڈالا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر واقعات کا بھی ذکر ہے جیسے خاوند نے بیوی کو آشنا سمیت قتل کردیا اور خود فرار ہو گیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے بیشتر واقعات میں خواتین کے رشتہ دار ملوث پائے گئے ہیں۔
اخباری کانفرنس میں موجود ایک اور غیر سرکاری تنظیم سحر کے عہدیدار وددود نے بتایا ہے کہ ’سیاہ کاری‘ کے واقعات کے حوالے سے چاروں صوبوں کے سنگم پر واقع پندرہ اضلاع اہم ہیں۔ ان اضلاع میں بلوچستان کے چار اضلاع جھل مگسی نصیر آباد جعفر آباد جبکہ سندھ کے سات اضلاع شامل ہیں۔ بلوچستان کا ضلع جعفر آباد اس لیے اہم ہے کیونکہ اس کی سرحد سندھ کے ساتھ ملتی ہے اور ان تمام علاقوں میں سرداری نظام رائج ہے۔ ہارون داؤد نے بتایا ہے کہ اس سہہ ماہی میں اڑتیس عورتیں اور گیارہ مرد ہلاک کیے گئے جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب عورتوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور مردوں کو کارو قرار دے کر جرگوں کے زریعے تاوان وصول کیا جاتا ہے جو لاکھوں روپوں میں ہوتا ہے اور یہ ایک طرح کا کاروبار بنتا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں نصیرآباد، ’دو نے اقبال جرم کر لیا‘22 September, 2008 | پاکستان نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘12 September, 2008 | پاکستان ’تحقیقات نہیں صرف نگرانی‘07 September, 2008 | پاکستان تاخیری حربوں سے کام نہیں لیا: ربانی02 September, 2008 | پاکستان خواتین زندہ دفن: متفقہ قرارداد01 September, 2008 | پاکستان ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان ’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘13 August, 2008 | پاکستان سینیٹ: بلوچستان پالیسی پر تنقید25 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||