’بلوچستان: خواتین کا قتل جاری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ڈھائی ماہ پہلے مبینہ طور پر پانچ خواتین کے سیاہ کاری کے الزام میں قتل کے واقعہ کے بعد چوبیس مزید واقعات پیش آچکے ہیں جن میں چوبیس خواتین سمیت پینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غیرسرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق ان واقعات میں سے بیشتر ضلع نصیر آباد اور ضلع جعفرآباد میں پیش آئے ہیں۔اس تنظیم کے عہدیدار علاؤالدین خلجی نے بتایا کہ وہ ان دنوں ان واقعات پر تحقیق کر رہے ہیں اور جب سے ذرائع ابلاغ نے نصیرآباد میں پانچ خواتین کے قتل کے واقعہ کو اٹھایا ہے اس کے بعد سے چوبیس واقعات پیش آئے ہیں۔ علاؤالدین خلجی کے مطابق ان واقعات میں چوبیس خواتین اور گیارہ مرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین خواتین اقدام قتل میں زخمی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے چھ ماہ میں ستر خواتین اور پچیس مرد سیاہ کاری کے الزام میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی اطلاع پندرہ جولائی کے بعد ذرائع ابلاغ یا غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے ذریعے ان تک پہنچی ہیں۔ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون صائمہ جاوید سے میں نے پوچھا کہ آیا نصیر آباد کے واقعہ کے بعد ان میں اضافہ ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ واقعات معمول سے پیش آرہے ہیں لیکن اب یہ واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ صائمہ جاوید کے مطابق نصیر آباد اور جعفرآباد کے علاقوں میں خواتین کو گندہ کہ کر مار دیا جاتا ہے۔
ایک اور غیرسرکاری تنظیم سحر کے عہدیدار عبدالودود نے بتایا ہے کہ ان واقعات کو اکثر اوقات ذرائع ابلاغ میں کم ہی جگہ دی جاتی ہے جبکہ بلوچستان کے برعکس دیگر صوبوں میں یہ واقعات معمول سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ خواتین کے واقعہ کو بھی صرف اس لیے زیادہ کوریج ملی ہے کیونکہ اس میں زندہ درگو کا عنصر غالب رہا ہے۔ نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر صادق عمرانی نے کہا ہے کہ نصیر آباد کے ہی واقعہ کو ذرائع ابلاغ میں اچھالنا بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ان علاقوں میں اپنی روایات ہیں اور قانون کی عملداری ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ یہ پانچ خواتین تھیں تو انہوں نے کہا کہ سراسر غلط ہے، صرف دو خواتین کو سیاہ کاری کے الزام میں ہلاک کیا گیا ہے اور ان خواتین کے والد اور بھائی پولیس کے پاس ہیں۔ بلوچستان میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ذرائع ابلاغ اور غیرسرکاری تنظیمیں صوبے میں جاری آپریشن اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بےگناہ افراد کے قتل پر توخاموش ہیں لیکن ان پانچ خواتین کے قتل کے واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیاہ کاری کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری قانون سازی اور پھر اس پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ نصیر آباد پولیس حکام نے ابتدائی طور پر عدالت کو بھی یہی کہا کہ یہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا ہے اور پھر شور شرابے کے بعد دو خواتین کی لاشیں برآمد کر لی گئی تھیں۔ | اسی بارے میں ’صرف دو عورتیں قتل ہوئی تھیں‘18 September, 2008 | پاکستان مقتول خواتین کی تفتیش اور احتجاج18 September, 2008 | پاکستان زندہ درگو: اصل لوگوں کو پکڑاجائے23 September, 2008 | پاکستان چھ ماہ میں دو سو پچیس عورتیں قتل26 September, 2008 | پاکستان اقلیتیں بھی قبائلی رسوم کی زد میں؟18 September, 2008 | پاکستان ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||