اقلیتیں بھی قبائلی رسوم کی زد میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سالہ راج کماری زندگی میں پہلی بار گھر سے کوسوں میل دور کراچی آئی ہے لیکن موت کا خوف یہاں بھی اسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ چھوڑے بھی کیوں؟ اس نے اپنی خاندانی اور علاقائی روایات کی خلاف ورزی جو کی ہے۔ اسے یہ احساس ہے کہ اس نے اپنے مستقبل کے بارے میں پہلی بار اپنی مرضی سے فیصلہ کیا ہے اور دہشت وہ قیمت ہے جو اسے فوری طور پر ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ’میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کوئی جرم نہیں کیا۔ میں نے وہی کیا ہے جو مجھے ٹھیک لگا۔‘ یہ بات کہتے ہوئے راج کماری کا لہجہ اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ کشمکش اسکی آنکھوں سے عیاں تھی جو نقاب کے پیچھے ڈر کے مارے سمٹی ہوئی تھیں۔ ویسے یہ فیصلہ اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ اسکی خاطر اسے اپناگھر بار، علاقہ، تعلیم سب کچھ چھوڑنا پڑا ہے۔ اور وہ ایسا کرتی بھی کیوں نا۔ سوال محبت کا تھا جس کی اسکے علاقے اور برادری کی سخت گیر روایات میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے آبائی علاقے نوڈیرو کی رہائشی ہے۔ وہیں کے ایک کالج میں بی ایس سی کی طالبہ تھی۔ والد کا انتقال ہو چکا ہے اس لئے اپنی والدہ کے ساتھ ماموں کے گھر پر رہتی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ماموں کا گھر ہی راجیش کمار سے محبت کا سبب بنے گا۔ بیس سالہ راجیش کمار سندھ کے قریب بلوچستان میں واقع سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کے آبائی علاقے روجھان جمالی میں رہتا تھا۔ سابق بینک افسر کا بیٹا تھا اور جیکب آباد کے ایک ٹیکنکل کالج میں الیکٹریکل انجینئرنگ پڑھ رہا تھا۔ اس کے والد کا کچھ ماہ قبل ایک ٹریفک حادثے میں انتقال ہو گیا اور ’میرے ماموں کے بیٹے کی شادی راجیش کی خالہ زاد سے ہوئی تھی اس لئے اسکا ہمارے گھر میں آنا جانا تھا۔ اس طرح ہم دونوں میں محبت ہوگئی۔‘ لیکن پھر ہوا وہی جو ہمیشہ ہوتا ہے۔ ’میرے گھر والے راضی نہیں تھے۔ انہوں نے انکار کردیا تھا اس لئے میں نے یہ قدم اٹھا لیا۔‘ راج کماری اور راجیش دونوں گھر سے فرار ہوکر کراچی پہنچے اور کیماڑی کے ایک مندر میں جاکر شادی کرلی۔ راجیش کے بقول کراچی آنے کی وجہ سے اسکی تعلیم بھی چھوٹ گئی ہے۔ ’سولہ اگست سے میرے سیکنڈ ایئر کے امتحانات شروع ہوئے لیکن اسی دن میں کراچی آگیا تھا اس لئے پیپر نہیں دے سکا۔‘ اس نوجوان جوڑے کو کراچی میں ایک غیرسرکاری تنظیم نے پناہ دے رکھی ہے۔ راجیش کا کہنا ہے کہ راج کماری کے بعض رشتے داروں نے روجھان جمالی جاکر ان کے چچا کو دھمکی دی ہے کہ اگر فوری طور پر لڑکی کو ان کے حوالے نہیں کیا گیا تو دونوں کو جان سے مار دیا جائے گا۔ ’میں اب واپس گھر بھی نہیں جارہا کیونکہ ہوسکتا ہے ان پر بھی دباؤ ہو اور وہ میری بیوی کو (اسکے رشتے داروں کو) واپس نہ کردیں۔‘ دونوں کے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لئے عدالت سے رجوع کریں۔ اس سلسلے میں انہیں پناہ دینے والی غیرسرکاری تنظیم نے قانونی مدد بھی فراہم کی ہے۔ صوبہ سندھ خاص کر بالائی سندھ میں غیرت کے نام پر قتل اب بھی ایک مستحکم قبائلی روایت ہے لیکن ایسا شاذونادر ہی ہوا ہے کہ مقامی ہندو آبادی نے اس رسم کو اپنایا ہو۔ راجیش کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جاوید اقبال برقی کا کہنا ہے کہ سندھ کی ہندو آبادی نسبتاً پرامن مشہور ہے اور پسند کی شادی کرنے پر راج کماری اور راجیش کو قتل کی دھمکیاں ملنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبائلی سماج کی روایات کا اثر اقلیتوں پر بھی ہورہا ہے جو کہ تشویشناک بات ہے۔ |
اسی بارے میں نصیرآباد:’رپورٹ ایک ماہ میں دیں‘12 September, 2008 | پاکستان ’تحقیقات نہیں صرف نگرانی‘07 September, 2008 | پاکستان بلوچ خواتین: لاشیں لاوارث پڑی ہیں04 September, 2008 | پاکستان نصیر آباد میں قبر سی خاموشی04 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||