BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2009, 08:43 GMT 13:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سال نو کا پہلا امریکی ڈرون حملہ

ڈرون
ڈرون حملوں کی افادیت پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاریں نے وانا کے علاقے میں ایک گاڑی اور ایک مکان کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ہلاک ہونے والے تینوں افراد ترکمن جنگجو تھے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو وانا سے تقریباً دس کلومیٹر جنوب کی جانب غواخوہ کے علاقے شوکائی نارائی میں امریکی جاسوس طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس وقت یہ گاڑی ایک مکان میں داخل ہو رہی تھی۔

حکام کے مطابق گاڑی میں سوار تین افراد موقع ہی پر ہلاک ہوگئے جبکہ دوسرا میزائل مکان پر لگا ہے جس سے مکان کے ایک حصہ کو کافی نقصان پہنچا ہے لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ گاڑی میں تین ترکمن جنگجو سوار تھے۔ جب گاڑی مکان کے قریب پہنچی توایک زوردار دھماکہ ہوا اور مکان کے ملبہ سے دھواں اٹھنے لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کو مقامی لوگوں نے گاڑی سے نکال لیا اور بعد میں مقامی طالبان انہیں ایک ایمبولینس میں اپنے ساتھ لے گئے۔

لیکن ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے ایک کمانڈر مالنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد اس حملہ کا بدلہ لین گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں حکومت پاکستان ملوث ہے۔

جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں پہلے بھی درجنوں میزائل حملے ہوچکے ہیں جن میں دو سو کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوبامہ پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ اپنی توجہ افغانستان پر مرکوز کریں گے اور
وہاں جلدی ہی امریکی فوج کی تعداد میں اضافے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ باراک اوبامہ مزید تیس ہزار فوجی افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد ور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی کیونکہ باراک اوبامہ کا خیال ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی ملیشیائیں قائم اور منظم کرنے کی کوشش کرے گا جیسا کہ اس نے عراق میں کیا تھا۔

ٹارگٹ وزیرستان
امریکی میزائل حملے اور طالبان کی مقبولیت
گائیڈڈ میزائل حملہگائیڈڈ میزائل حملے
قبائلی علاقوں میں گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ
قبائلی علاقے باجوڑ پر میزائل حملہ باجوڑ، میزائل حملہ
’پاکستانی سکیورٹی فورسز ملوث نہیں‘
بنوں میں حملےبنوں میزائل حملے
بنوں کے شہری میزائلوں کا نشانہ
سیدگئی میں دھماکہدھماکہ یامیزائل حملہ
سیدگئی میں دھماکہ: تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد