BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 November, 2008, 16:35 GMT 21:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اور امریکہ، حکمت عملی پر اختلافات؟

طالبان
طالبان کے حملوں میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔
افغانستان کی سرحد پر فوجی حکمت عملی کے بارے میں امریکہ اور پاکستان کے اختلافات کو نظر انداز کرنا اب کافی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ سے کہا کہ پاکستانی سر زمین پر امریکی فضائی حملے ناقابل برداشت ہیں۔

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے برسلز میں نیٹو کی فوجی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے بند ہونے چاہئیں۔

ادھر نیٹو کے فوجی کمانڈر کہتے ہیں کہ پاکستانی افواج کے ساتھ تعاون بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ ان دونوں دعوؤں میں سے سچ کیا ہے؟

شاید یہ دونوں ہی بیانات اپنی جگہ سچ ہیں۔ افغان صوبے کنڑ اور پاکستانی قبائلی علاقے باجوڑ کے درمیان سرحد پر امریکی اور پاکستانی فوج مل کر کام کر رہی ہیں۔

افغان شدت پسندوں کی مدد سے مقامی طالبان کے پاکستان فوج پر حملوں کے بعد پاکستان نے اس علاقے میں باقاعدہ آپریشن کا آغاز کیا۔ امریکہ کہتا ہے کہ اس کارووائی نے شدت پسندوں کی سرحد پار سرگرمیوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سرحدی علاقہ انتہائی دشوار گزار ہے۔

حال ہی میں افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ مک کیرنن نے یہ بیان دیا کہ وہ پاکستانی فوج کے تعاون سے ایسی زمینی کارووائیاں کر رہے ہیں جن کا پانچ چھ مہینے پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

اور پاکستان فوج کے کمانڈرز بھی اس بات پر اتفاق کرتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر امریکی اور پاکستانی افواج کے درمیان اتنا تعاون پایا جاتا ہے، تو امریکہ خود ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں پر فضائی حملے کیوں کر رہا ہے؟ خاص کر جب پاکستان اس پر احتجاج کررہا ہے؟

یہاں دونوں افواج کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سینئر طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس طرح پاکستان ہی کی مدد کر رہا ہے۔

امریکی میڈیا نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے دراصل ان حملوں کی اجازت دی ہوئی ہے لیکن اپنا بھرم رکھنے کے لیے وہ ان پر احتجاج کرتے رہتے ہیں۔

تاہم پاکستانی حکام اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور ان کی شکایت ہے کہ بیت اللہ محسود جیسے خطرناک کمانڈر کو نشانہ بنانے کے بجائے ان حملوں کا ہدف ملا نظیر اور حافظ گل بہادر جیسے رہنما بن رہے ہیں جنہوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔

ڈرون طیاروں کے حملوں پر قبائلی علاقوں میں سخت ناراضگی ہے۔

اس طرح ان حملوں کی وجہ سے علاقے میں پاکستان فوج کی پالسیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ لیکن امریکی فوج کو شمالی وزیرستان میں افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی اور ان کے بیٹے سراج الدین کی موجودگی پر خاصی تشویش ہے اور اس لیے وہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کمانڈروں میں امریکہ کی دلچسپی کی دو وجوہات ہیں۔

امریکہ جلال الدین حقانی کے نیٹ ورک کو جنوب مشرقی افغانستان میں جاری تشدد اور گزشتہ جولائی میں بھارتی سفارتخانے پر حملے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

چند امریکی حکام کو یہ بھی شک ہے کہ پاکستانی فوج اور خاص کر آئی ایس آئی نہ صرف افغان طالبان کے خلاف کارووائی نہیں کر رہے بلکہ الٹا ان کی مدد کی جا رہی ہے۔ ان شکوک کی وجہ سے دونوں افواج کا ایک دوسرا پر بھروسہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

کچھ ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج واقعی افغان طالبان کا پیچھا اُس طرح سے نہیں کر رہی جیسے کہ امریکہ چاہتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے ان کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ انہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کو یہ خدشہ ہے کہ اگر افغان طالبان سے تعلقات ختم کر دیے گئے تو اس سے افغان حکومت زیادہ مضبوط ہو جائے گی اور ساتھ ہی افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ بھی بڑھ جائے گا۔

بھارت نے پہلے ہی افغانستان میں کافی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور افغانستان کی فوج کو تربیت دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔

امریکہ کا پاکستانی قبائلی علاقوں میں بم باری جاری رکھنا اور ساتھ ہی بھارت کو خطے میں مضبوط طاقت بنانے کی کوشش کرنے سے پاکستان فوج میں یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ خطے میں پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو جائے۔

اسی لیے پاکستان فوج اپنے مفادات محفوظ رکھنے کے لیے شاید افغان طالبان کے خلاف کارووائی کرنے پر راضی نہیں نظر آتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد