افغان تشدد بہت بڑھ گیا ہے: یو این | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کئے ایڈا نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے فوجیوں، شہریوں اور امدادی کارکنوں پر گزشتہ چھ برس کے مقابلے میں اب زیادہ حملے ہو رہے ہیں۔ کئے ایڈا کے مطابق بھاری اسلحے سے لیس طالبان مزاحمت کار اب اپنے مضبوط گڑھ یعنی ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں سے باہر نکل کر بھی حملے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں تاہم یہ بات سچ ہے کہ افغان اور غیر ملکی افواج افغان شہریوں کی حمایت سے محروم ہو رہی ہیں۔ اس کا سبب بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس کی بنیادی وجہ امن عامہ کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال ہے اور ہم پچھلے چند ماہ، خصوصاً جولائی اور اگست میں دیکھ چکے ہیں کہ دو ہزار دو کے مقابلے میں شورش کے زیادہ واقعات ہوئے ہیں۔ دو ہزار سات کے ان ہی مہینوں کے مقابلے میں یہ اضافہ چالیس فی صد زیادہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ طالبان نے کچھ حالیہ بیانات اور رپورٹیں استعمال کرتے ہوئے افغان عوام کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ بین الاقوامی برادری کا عزم کمزور پڑ رہا ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں افغانستان میں برطانوی افواج کے کمانڈر برگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے ایک برطانوی اخبار کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’ہم یہ جنگ نہیں جیتیں گے۔‘ ان کے اس بیان کو بہت رپورٹ کیا گیا تھا۔ ادھر افغانستان میں نیٹو افواج نے کہا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے چار فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُرزگان صوبے میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے نو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ شہری ایک بس میں سفر کر رہے تھے۔ دوسری جانب صوبے غزنی میں اتحادی افوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانچ طالبان کو ہلاک کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس لڑائی میں’درجنوں طالبان ہلاک‘12 October, 2008 | آس پاس طالبان پروپیگنڈے سے نمٹنے کا منصوبہ10 October, 2008 | آس پاس طالبان سے بات کی جا سکتی ہے: گیٹس07 October, 2008 | آس پاس افغان پولیس سربراہ کو قتل کر دیا28 September, 2008 | آس پاس جنگ پاکستان آنے کا خطرہ: طارق علی 23 September, 2008 | آس پاس ’ضرورت پرکارروائی سےگریز نہیں‘19 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||