BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 January, 2009, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں: مشرف

سابق صدر پرویز مشرف امریکہ کے دورے پر گئے ہیں
سابق صدر پرویز مشرف امریکہ کے دورے پر گئے ہیں
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایسے بیانات نہ دیں جو خطے میں جنگ شروع ہونے کا باعث ہوں۔

سابق صدر امریکہ کے دس روزہ دورے پر گئے ہیں جہاں پر وہ مختلف فورم میں عالمی صورتحال پر لیکچرز دیں گے۔

سنیچر کو امریکہ روانگی سے پہلے بینظیر بھٹو ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ اُن کے دور میں امریکہ کے ساتھ پاکستان حدود میں فضائی حملوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور جب بھی امریکی جاسوس طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی ہے پاکستان نے اس پر امریکی حکومت سے بھرپور احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حق صرف پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ بھارتی قیادت کی طرف سے غیرذمہ دارانہ بیانات سے علاقے میں امن ماحول کشیدہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کی فضول باتیں بند کردے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اور عوام نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کرتا ہے تو پاکستان بھی بھارتی حدود میں اسی قسم کی کارروائی کرے گا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ اگر پاکستان کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہوا تو پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں سمیت تمام آپشنز استعمال کر سکتا ہے۔

 پرویز مشرف نے کہا کہ اُن کے دور میں امریکہ کے ساتھ پاکستان حدود میں فضائی حملوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور جب بھی امریکی جاسوس طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی ہے پاکستان نے اس پر امریکی حکومت سے بھرپور احتجاج کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے مذاکرات جاری تھے لیکن ممبئی حملوں کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پرویز مشرف نے ان حملوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اُس کی بنیادی وجوہات کو جاننا بہت ضروری ہے اور جب تک بنیادی وجوہات کو ٹھیک نہیں کیا جاتا اُس وقت تک دہشت گردی کےخلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان اس جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے اور جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں وہ کسی اور ملک نے نہیں دیں۔

سابق صدر نے کہا کہ بیرونی ممالک کی طرف سے اس جنگ میں ’ڈو مور‘ کو فضول قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ڈیڑھ ہزار سے زائد فوجی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں سویلین ہلاک ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری ڈومور کہہ کر ہمیں مایوس کرنے کی بجائے ہماری حوصلہ افزائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداروں نے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے چھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں 25 سے زائد اُن کے اہم رہنما شامل ہیں۔

پرویز مشرف صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد دوسری مرتبہ میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ پہلی مرتبہ انہوں نے لاہور میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں شرکت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی تھی۔

صدرمشرفمشرف مشروط وعدہ
امن ہو، جو بھی حکومت ہوگی سپورٹ کروں گا
کچھ نہیں بدلے گا
فوجی کارروائی سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی
جشنِ آزادیتقریبات پر تنازعہ
جشنِ آزادی، حکومت اور ایوانِ صدر میں ٹھن گئی
دہشتگردی کل اور آج
پہلے مشرف اور اب انکی پالیسیوں کا تسلسل؟
پرویز مشرف کا فارم ہاؤس مشرف کا فارم ہاؤس
پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کی ایک جھلک
مشرف اچانک، غیر متوقع
سابق صدر مشرف کی دعوت ولیمہ میں شرکت
اسی بارے میں
پرویز مشرف نجی دورے پر لندن
23 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد