امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایسے بیانات نہ دیں جو خطے میں جنگ شروع ہونے کا باعث ہوں۔ سابق صدر امریکہ کے دس روزہ دورے پر گئے ہیں جہاں پر وہ مختلف فورم میں عالمی صورتحال پر لیکچرز دیں گے۔ سنیچر کو امریکہ روانگی سے پہلے بینظیر بھٹو ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ اُن کے دور میں امریکہ کے ساتھ پاکستان حدود میں فضائی حملوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور جب بھی امریکی جاسوس طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی ہے پاکستان نے اس پر امریکی حکومت سے بھرپور احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا حق صرف پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ بھارتی قیادت کی طرف سے غیرذمہ دارانہ بیانات سے علاقے میں امن ماحول کشیدہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کی فضول باتیں بند کردے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اور عوام نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کرتا ہے تو پاکستان بھی بھارتی حدود میں اسی قسم کی کارروائی کرے گا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ اگر پاکستان کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہوا تو پاکستان نیوکلیئر ہتھیاروں سمیت تمام آپشنز استعمال کر سکتا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پرویز مشرف نے ان حملوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دہشت گردی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اُس کی بنیادی وجوہات کو جاننا بہت ضروری ہے اور جب تک بنیادی وجوہات کو ٹھیک نہیں کیا جاتا اُس وقت تک دہشت گردی کےخلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان اس جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے اور جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں وہ کسی اور ملک نے نہیں دیں۔ سابق صدر نے کہا کہ بیرونی ممالک کی طرف سے اس جنگ میں ’ڈو مور‘ کو فضول قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ڈیڑھ ہزار سے زائد فوجی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں سویلین ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری ڈومور کہہ کر ہمیں مایوس کرنے کی بجائے ہماری حوصلہ افزائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداروں نے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے چھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں 25 سے زائد اُن کے اہم رہنما شامل ہیں۔ پرویز مشرف صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد دوسری مرتبہ میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ پہلی مرتبہ انہوں نے لاہور میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں شرکت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی تھی۔ |
اسی بارے میں مشرف دور، خودکش حملے عروج پر19 August, 2008 | پاکستان قبائلی علاقہ، بہتری کے امکانات ہیں؟20 August, 2008 | پاکستان پرویز مشرف نجی دورے پر لندن23 November, 2008 | پاکستان مشرف، میڈیا کے سامنے، بات سے انکار26 December, 2008 | پاکستان ڈاکٹر عافیہ، مشرف درخواستیں خارج18 November, 2008 | پاکستان پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کی ایک جھلک17 October, 2008 | پاکستان مشرف، مشرف پالیسیاں اور دھماکے21 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||