مشرف، میڈیا سے بات سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے لاہور میں سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ میں شرکت کی ہے۔ ان کی آمد نہ صرف میڈیا بلکہ تقریب میں موجود زیادہ تر مہمانوں کے لیے اچانک اور غیر متوقع تھی۔ پرویز مشرف کی اہلیہ صہبا مشرف ان کے ہمراہ تھیں۔ دونوں میاں بیوی کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ ان کے دور کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور انہیں اپنے ساتھ پنڈال تک لیکر آئے۔ خورشید قصوری کے صاحبزادے کی شادی وفاقی وزیر منظور وٹو کی صاحبزادی کے ساتھ ہوئی ہے۔ منظور وٹو نے بھی صدر مشرف سے مصافحہ کیا جس کے بعد سابق صدرپرویز مشرف اور ان کی اہلیہ نے دلہا دلہن کو مبارکباد دی اور ان کے ہمراہ تصویر بنوائی۔ پرویز مشرف چند منٹ تقریب میں موجود رہنے کے بعد واپس چلے گئے۔ ان کے ہمراہ سیکیورٹی کے اہلکار بھی تھے۔ صدارت سے سبکدوشی کے بعد وہ کسی ایسی تقریب میں دکھائی دیے ہیں جہاں میڈیا کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے ان سے ملاقات کے لیے دھکم پیل کرتے رہے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی کوشش تھی کہ انہیں دور رکھا جائے۔ پرویز مشرف نے میڈیا سے مختصر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان کی جرآت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے۔ پاکستان کی افواج جب تک زندہ اور قائم ہیں ہندوستان کی جرآت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔’ سابق صدر نے کہا ’ہماری صلاحیت ہے اور ہماری قابلیت ہے کہ ہم پورے طریقے سے پاکستان کا دفاع کرسکتے ہیں۔‘ صدارت سے سبکدوشی کے بعد پہلی بار کسی تقریب میں براہ راست میڈیا کے نمائندوں سے ان کا سامنا ہوا ہے لیکن صدر مشرف نے چند جملوں کے سوا زیادہ گفتگو نہیں کی۔ انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کردیا اور کہا کہ اس بارے میں صدر اور وزیر اعظم سے بات کی جائے۔ تقریب میں لوگ ان کے گرد اکٹھے ہو کر ان سے ہاتھ ملانے کی کوشش کرتے رہے جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تو دو تین افراد نے پرویز مشرف زندہ باد کےنعرے بھی لگائے۔ اس تقریب میں دیگر سیاستدانوں کے علاوہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی شرکت کی لیکن وہ صدر پرویز مشرف کی آمد سے پہلے جاچکے تھے۔ یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو میں اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ پاکستان جنگ نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ممبئی حملوں کے بعد سے لیکر اب تک ان کا بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے کوئی رابط نہیں ہوا ہے۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلٰی منظور وٹو اور خورشید محمود قصوری دونوں ہی پہلے مسلم لیگ قاف میں شامل تھے لیکن انتخابات کے بعد منظور وٹو پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ انہیں وزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا گیا تھا لیکن اب وہ وفاقی وزیر برائے صنعت و تجارت ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خورشید قصوری کے صاحبزادے سے ان کی بیٹی کی شادی سے ان کے سیاسی اثرونفوذ کا دائرہ وسیع ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||