BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 20:34 GMT 01:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پرویز مشرف غیر آئینی صدر ہیں‘

تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کروایا جائے جنہیں آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں نے ’عقوبت خانوں‘ میں رکھا ہوا ہے: ہیومن رائٹس واچ
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے سربراہ کِن رُتھ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف پاکستان کے غیر آئینی صدر ہیں، وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں ان کا احتساب کیا جائے اور انہیں چاہئے کہ وہ عوامی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے جمہوریت کے راستے ہٹ جائیں۔

وہ لاہور میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

کن رتھ نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنے دورہِ پاکستان کے دوران وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر قانون، وزیرِ اطلاعات کے علاوہ میاں نواز شریف، دیگر رہمنائوں اور وکلا کے قائدین سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر زور دیا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری سمیت ان تمام ججوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے، جن کو تین نومبر دو ہزار سات کو غیرقانونی طور پر ہٹایا گیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے ان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کروایا جائے جن کو آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں نے ’عقوبت خانوں‘ میں رکھا ہوا ہے۔مسٹر رتھ نے کہا کہ اگر ان میں کوئی کسی جرم میں ملوث بھی ہے تو اسے ملکی قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے سے متعلق پاکستان، اقوام متحدہ کے کنوینشن دستخط کرے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف غیر قانونی صدر ہیں اور ان کے دور میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ان کا احتساب کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان تمام حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی اور سویلین حکام کا احتساب کیا جائے جو بقول ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی حکومت کے دوران کئے گئے جرائم میں ملوث افراد کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے۔

کین رُتھ نے کا کہنا تھا موجودہ جمہوری حکومت آنے کے بعد شہریوں کے سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے کئی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ جن میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کرنا بہت خوش آئند فیصلہ ہے۔ تاہم انہوں نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ موت کی سزا کا قانون ہی ختم کیا جائے تا کہ مستبقل میں کسی بھی جرم میں ملوث شہری کو موت کی سزا نہ سنائی جا سکے۔

انہوں نے طلبہ اور ٹریڈ یونینوں پر سے پابندی ہٹائے جانے کے اقدام کو بھی سراہا اور ساتھ ہی ان کا یہ کہنا تھا کہ بنیادی انسانی حقوق کیلئے ابھی پاکستان میں بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت میں انہوں نے سب بڑی تبدیلی وکلا کے حکومت مخالف لانگ مارچ کے دوران محسوس کی۔ حکومت کا رویہ بہت مثبت تھا جبکہ گذشتہ سال جب وکلا نے احتجاج شروع کیا تھا تو مشرف حکومت نے ان کو مارا، پیٹا، گرفتار کے جیلوں میں ڈالا اور انہیں گھروں میں نظربند کر دیا تھا۔

صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان پر شدت پشندوں کے خلاف آپریشن کرنے کیلئے امریکی دباؤ ہے۔ اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی قوت انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہے تو اس کو روکے لیکن اس میں بھی حکومتی اداروں یا فورسز کو کسی صورت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزر نہیں کرنی چاہیے۔

ایک اور سوال کے جواب میں مسٹر رتھ نے کہا کہ وہ پہلے دن سے گوانتانامو بے اور سی آئی اے کے ان جیسے دیگر مراکز بند کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا ہیومن رائٹس واچ افغانستان، عراق سمیت امریکہ کے تمام آپریشنز کی مخالفت کرتی ہے۔

اسی بارے میں
ایک سال میں 135 کو پھانسی
28 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد