ڈاکٹر عافیہ، مشرف درخواستیں خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی اداروں کی حراست میں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لےجانے کی متفرق درخواست خارج کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے حوالے سے مرکزی درخواست عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس حوالے سے حکومت اور وزارت خارجہ کی طرف سے جواب آنا باقی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک یہ ادارے جواب نہیں دیتے اُس وقت تک اس معاملے کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں نہیں بھجوایا جا سکتا۔ بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار نے کہا کہ نیویارک کی عدالت نے بھی یہ فیصلہ دیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ذہنی حالت درست نہیں ہے اس لیے وہ اپنے خلاف دائر مقدمے کا دفاع نہیں کر سکتی۔ جاوید اقبال جعفری نے کہا کہ پاکستانی حکومت میڈیکل گراونڈ پر ہی امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے حوالے سے درخواست کرے۔ درخواست گذار نے عدالت سے کہا کہ وزارت خارجہ کو عدالت نے دوہفتوں کا وقت دیا تھا کہ وہ اس عرصے کے دوران وہ ان تمام کارروائی کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں جو ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے بارے میں کی جا رہی ہیں۔ جاوید اقبال جعفری نے کہا کہ اگر وزارت خارجہ کے اہلکار عدالتی احکامات پر عملدرامد نہیں کرتے تو اُن کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کی جائے بلکہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کا معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کو بھیج دیا جائے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل امجد اقبال قریشی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چند روز میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے بارے میں جواب عدالت میں داخل کروادیں گے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے حوالے سے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے اس معاملے کو ہر فورم پر اُٹھایا ہے اور کچھ عرصے پہلے خارجہ امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی تھی اور اُن کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہی سٹیٹ بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر کا نام اور سابق صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بارے میں متفرق درخواست بھی خارج کردی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی بطور سٹیٹ بینک گورنر کی تعیناتی کی مرکزی درخواست پر اُنہیں نوٹس جاری کردیا گیا ہے اور ابھی تک اُن کی طرف سے کوئی جواب عدالت میں داخل نہیں کروایا گیا۔ درخواست گذار کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی بطور سٹیٹ بینک کے گورنر کی تقرری قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کی گئی ہے اس لیے اُنہیں خطرہ ہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر اور سابق صدر پرویز مشرف ملک سے فرار ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں قدیر خان کی درخواست مسترد27 October, 2008 | پاکستان حکومت کو مزید اقدامات کی ہدایت15 October, 2008 | پاکستان سرحد بجلی، حکم امتناعی میں توسیع24 September, 2008 | پاکستان نظرثانی کی درخواست مسترد28 July, 2008 | پاکستان مشروط ملاقات پر نظرثانی کی پٹیشن22 July, 2008 | پاکستان ’نظر بندی کے ساتھ زباں بندی‘21 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||