BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 July, 2008, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشروط ملاقات پر نظرثانی کی پٹیشن

عبدالقدیر خان
ڈاکٹر قدیر خان کو کتاب لکھنے کی اجازت دی جائے: وکیل
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی کے خاتمے اور ملاقاتوں کی مشروط اجازت دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔

یہ درخواست بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے منگل کے روز دائر کی ہے۔

درخواست گزار نے اپنی اس درخواست میں تین نکات اُٹھائے ہیں جن میں ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کرنے والوں کی کلیئرنس کا ٹائم شیڈول، ملاقات کی اجازت لینے کے لیے مجاز اتھارٹی کا قیام اور کتاب لکھنے کی اجازت شامل ہے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو حبس بےجا میں رکھنے کے خلاف بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی طرف سے دائر درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے ممتاز سائنسدان کو اندرون ملک سفر کرنے، اپنی مرضی سے ڈاکٹروں سے علاج کروانے اور عزیز واقارب سے ملاقات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

تاہم اُن پر یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے میڈیا میں کوئی بیان بازی نہیں کریں گے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ رشتہ داروں اور عزیزواقارب کو ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وہ ایٹمی پھیلاؤ کے بارے میں کوئی بیان نہ دیں انہوں نے کہا کہ یہ غیر ضروری ہے کیونکہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا۔

بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے کہا کہ عدالت اپنے فیصلے میں یہ واضح کرے کہ سکیورٹی مجاز اہلکار اگر چوبیس گھنٹے تک ڈاکٹر عبداقدیر سے ملاقات کے خواہشمند کی کلیرنس نہ کریں تو اُس کو کلیئر سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت اس ضمن میں دوسری پارٹی کو نوٹس جاری کرے گی اور اُن کو سُنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو حبس بےجا میں رکھنے کے حوالے سے پانچ درخواستوں کے حوالے سے دوسرے فریق نے جواب نہیں دیا اور قانون یہ ہے کہ عدالت وہ تمام حقائق تسلیم کرے جو ان درخواستوں میں اُٹھائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد