BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2008, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قدیر خان کی درخواست مسترد

قدیر خان کے وکیل کے مطابق انہیں عزیز و اقارب سے آزادانہ طور پر ملنے نہیں دیا جا رہا
اسلام اباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حبس بےجا میں رکھنے کے بارے میں عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل کو حبس بےجا میں رکھنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کریں گے۔

نظر ثانی کی یہ درخواست ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود اُن کے موکل کو گھر سے باہر نکلنے، عزیزواقارب سے ملنے کی مشروط اجازت اور تحقیقی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔

عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ فوجداری کے مقدمات میں عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں ہوسکتی۔

عدالت نے اس درخواست میں معاونت کے لیے ڈپٹی اٹارنی جنرل امجد اقبال قریشی کو بھی طلب کیا تھا جنہوں نے کہا کہ اس عدالت میں نظر ثانی کی درخواست پر سماعت نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے21 جولائی کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو حبس بےجا میں رکھنے کے خلاف بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی طرف سے دائر درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے ممتاز سائنسدان کو اندرون ملک سفر کرنے، اپنی مرضی سے ڈاکٹروں سے علاج کروانے اور عزیز واقارب سے ملاقات کرنے کی اجازت دے دی ہے تاہم یہ تمام معاملات سیکورٹی کلیئرنس سے مشروط کر دیئے تھے۔

اُن پر یہ شرط بھی عائد کی گئی تھی کہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے میڈیا میں کوئی بیان بازی نہیں کریں گے۔

درخواست گزار نے اپنی نظر ثانی درخواست میں یہ نکات اُٹھائے تھےجن میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کرنے والوں کو اجازت نہیں دی جا رہی اس کے علاوہ اُن کے موکل کو بھی نقل وحرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

واضح رہے کہ نظر ثانی کی اس درخواست کے سماعت کے دوران بیرسٹر جاوید اقبال نے عدالت میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا خط بھی پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ٹیلی وژن پر آکر جوہری توانائی کے پھیلاو کے بارے میں جو بیان دیا تھا وہ ملکی مفاد میں تھاحالانکہ وہ اس میں کبھی بھی ملوث نہیں رہے۔

تاہم جیسا ان سے کہا گیا تھا ویسے ہی انہوں نے چار فروری 2004 کو سٹیٹرجیک ڈویژن کی طرف سے تیار کیئے گئے ایک بیان کو سرکاری ٹی وی پر جا کر پڑھ دیا۔

اسی بارے میں
نظرثانی کی درخواست مسترد
28 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد