شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | چار ماہ کا عرصہ چار سال سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہوگیا ہے اور ابھی تک اُن کی نظر بندی ختم نہیں ہوئی |
پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا تھا جرنیلوں کے کہنے پر کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے نام ایک اور خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے ٹیلی وژن پر آکر جوہری توانائی کے پھیلاو کے بارے میں جو بیان دیا تھا وہ ملکی مفاد میں تھاحالانکہ وہ اس میں کبھی بھی ملوث نہیں رہے۔ تاہم جیسا ان سے کہا گیا تھا ویسے ہی انہوں نے چار فروری 2004 کو سٹیٹرجیک ڈویژن کی طرف سے جو لکھا بیان انہوں نے سرکاری ٹی وی پر جا کر پڑھ دیا۔ انہوں نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ سابق صدر نے اُن کے ساتھ جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے۔ ڈاکٹر قدیر کا کہنا ہے کہ اس مذکورہ بالا بیان پڑھنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ اُن کو صرف چار ماہ کے لیے گھر میں نظر بند کیا جائے گا اور یہ صرف امریکہ کو دکھانے کے لیے ہوگا لیکن چار ماہ کا وہ عرصہ چار سال سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہو چکا ہے اور ابھی تک اُن کی نظر بندی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ سیکورٹی اداروں سے کہیں کہ وہ تحریری احکامات عدالت کے سامنے پیش کریں جو ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی کے بارے میں دیے گئے ہیں۔ یہ خط بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم کے حوالے کیا۔ اُدھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جبس بےجا میں رکھنے کے حوالے سے نظر ثانی کی درخواست کی سماعت جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔ درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کی نظر بندی ختم کرنے کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درامد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو اُن کے رشتہ داروں سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ اُنہیں کوئی تحقیقی کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو پاکستان سائنس فاونڈیشن جانے کی اجازت ہے جبکہ وہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز جانا چاہتے ہیں لہذا اس کی تصیح کی جائے۔
 | خط پر شکوک وشہبات  جو خط ڈاکٹر عبدالقدیر سے منسوب کیا جا رہا ہے اور اس میں جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے اُس سے ایسا نہیں لگتا کہ یہ خط ملک کے ممتاز ایٹمی سائنسدان نے لکھا ہے  ڈپٹی اٹارنی جنرل |
ڈپٹی اٹارنی جنرل امجد اقبال قریشی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق نظر ثانی کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جو خط ڈاکٹر عبدالقدیر سے منسوب کیا جا رہا ہے اور اس میں جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے اُس سے ایسا نہیں لگتا کہ یہ خط ملک کے ممتاز ایٹمی سائنسدان نے لکھا ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس خط کے بارے میں انہیں کچھ شکوک وشہبات ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنہیں دو دن کا وقت دیا جائے تاکہ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی کے بارے میں اگر کوئی تحریری احکامات ہیں تو وہ عدالت میں پیش کر سکیں۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت دو دن کے لیے ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے ایک درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر عدالت میں خود پیش ہونا چاہتے ہیں لہذا اُن کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ |