BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 July, 2008, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر قدیر حراست پر فیصلہ محفوظ

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
اکیس جولائی کو آنے والہ فیصلہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگا: وکلاء
اسلام آباد ہائی کورٹ نےایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حبسِ بےجا میں رکھنے سےمتعلق دائر کی جانے والی درخواستوں پر فیصلہ اکیس جولائی تک محفوظ کر لیا۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کی بیوی اور ان کے دوست اقبال جعفری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔

درخواست گزاروں نے صدر پرویز مشرف، مشیر داخلہ رحمان ملک اور وفاقِ پاکستان کو فریق بنایا ہے۔

بدھ کے روز جب ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو وفاق کی جانب سے ان درخواستوں کی پیروی کرنے والے وکیل احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس سردار محمد اسلم کو بتایا کہ عدالت کے احکامات کی روشنی میں انہوں نے درخواست گزاروں کے وکیل جاوید اقبال جعفری سے منگل کے روز ملاقات کی تھی جس میں تمام امور پر بات ہوئی تھی۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس ملاقات کی تفصیل بند کمرے میں بتانا چاہتے ہیں۔دونوں فریقین کے وکلاء نے بند کمرے میں اپنا نقطہ نظر عدالت کے سامنے رکھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے فریقین کے وکلاء سے کہا تھا کہ وہ مل بیٹھ کر ڈاکٹر عبدالقدیر کی حراست سے کے حوالے سے اقدام تجویز کریں۔

فریقین کے وکلاء نے بند کمرے میں اپنی ملاقات کے بارے میں جج کو آگاہ کرنے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قوم کے لیے خدمات اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے حوالے سے اُن کے بیانات کے بعد ملک کو درپیش سیکورٹی کے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیےگئے ہیں۔

ان وکلاء نے مذاکرات کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں تاہم اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات تسلی بخش ہوئے ہیں اور اکیس جولائی کو آنے والہ فیصلہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگا۔

اُن کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکل نے کبھی بھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا جو پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ان درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اندرون ملک سفر کرنے، عزیزواقارب سے ملاقات اور طبی امداد فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔

گذشتہ سماعت کے دوران ان درخواستوں کے حوالے سے حکومت کی طرف سے جو جواب داخل کروایا گیا تھا درخواست گزاروں کے وکیل نے اُسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد